جوانی کو ضائع ہونے سے بچائیں

جوانی ڪـی عمر ڪـو ضائع ہونے سے بچاؤ، اور بڑھاپے سے پہلے نیڪیاں جمع ڪرنے میں مصروف ہو جاؤ.

ایڪ شخص نے اپنے خادم سے ڪـہا ڪہ آج دن ڪـے اُجالے میں یہ ڪام ہر صورت میں مڪمل ہو جانا چاہئے خواہ دیگر ڪام ڪرو یا نہ ڪرو نیز جس قدر اچھا ڪام ڪرو گے انعام ڪـے حقدار ہو گے اور اگر ڪام درست انداز میں یا بالــڪل نہ ڪیا تو انعام سے محرومی ڪـے ساتھ ساتھ سزا ڪـے بھی مستحق ٹھہرو گے۔ خادِم نے مالڪ ڪـے حڪم پر سرِتسلیم خم ڪـرتے ہوئے ڪام ڪـے مڪمل ہو جانے ڪـی یقین دہانی ڪروائی مگر غفلت ڪـی بناء پر یا دِیگر ڪاموں میں مصروفیت ڪـی وجہ سے اس ضروری ڪام ڪـو بھول گیا۔ عصر ڪـے بعد جب سورج غروب ہونے والا تھا تو اچانڪ اسے یاد آیا ڪہ مالڪ نے تو سورج ڈھلنے سے پہلے پہلے فلاں ڪام مڪمل ڪرنے ڪا حڪم دیا تھا، یاد آتے ہی اس ڪـے ہاتھ پاؤں پھول گئے ڪہ جو ڪام پورے دن ڪا تھا اب دن ڪـے اس تھوڑے سے حصے میں ڪیسے مڪمل ہو سڪتا ھـــــے، بہرحال وہ ہر طرف سے غافل ہو ڪـر اس ڪام میں مصروف ہوگیا اور جی جان سے ڪوشش ڪرنے لگا ڪہ ڪـسی طرح یہ ڪام مڪمل ڪـر لےاور شدت سے یہ خواہش ڪرنے لگا ڪہ اے ڪاش! تھوڑی دیر سورج مزید ٹھہر جائے اور اسے ڪام مڪمل ڪرنے ڪا موقع مل جائے .

یا اس ڪا مالڪ اسے مزید ایڪ دن ڪا موقع دیدے تو یقیناً وہ اس ڪام ڪـو مڪمل ڪـر لے گا اور دیگر ڪاموں ڪـی طرف بالــڪل آنڪھ اٹھا ڪـر بھی نہ دیڪھے گا۔ اس ڪـے ساتھ ساتھ وہ اپنی غفلت پر افسوس ڪرتا جاتا ڪہ ہائے افسوس! وہ ڪیسے یہ بھول گیا حالانڪہ اس ڪـے مالڪ نے ڪام ڪـی درست طریقے سے بجاآوری پر انعامات ڪا وعدہ ڪیا تھا اب ایڪ تو ان انعامات سے محروم ہونا پڑے گا دوسرے مالڪ ڪـی ناراضی ڪـی صورت میں سزا بھی مل سڪتی ھـــــے۔
(مقصدِ حیات،ص 34 حاصلِ حکایت)بڑھاپے یعنی عمر ڪـے آخری حصے میں خوابِ غفلت سے بیدار ہونے والے شخص ڪـی مثال بھی مذڪورہ خادِم جیسی ھـــــے، ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں زِنْدَگی اور موت ڪـے درمیان ڪا وقت عطا فرمایا تاڪہ ہم عبادت ڪـے ذریعے رضائے خداوندی حاصل ڪـر ڪـے اخروی انعامات ڪـے حقدار قرار پائیں مگر ہم میں سے اڪثر لوگ جوانی دیوانی ہوتی ھـــــے، ڪا نعرہ لگا ڪـر ایامِ زِنْدَگی غفلت میں گزار دیتے ہیں پھر جب زِنْدَگی ڪا سورج غروب ہونے پر آتا ھـــــے.تو گزرے وقت پر افسوس ڪـرتے ہیں اور باقی عمر یادِ خداوندی میں مگن ہو جاتے ہیں، افسوس! صد افسوس! جب دنیا ڪـے قابل نہیں.

رہتے یا دنیا ہمیں دھتڪار دیتی ھـــــے تو رب قدوس ڪا در یاد آتا ھـــــے اور پھر ہر طرف سے منہ موڑ ڪـر زِنْدَگی ڪـے آخری لمحات میں اپنے رب ڪـو راضی ڪرنے ڪـی ڪوشش ڪرنے لگتے ہیں۔اے ڪـاش! اس جوانی ڪـو گناہوں اور فُضُولِیات میں برباد ڪرنے ڪـے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ ڪـی عِبادَت و اطاعَت اور اِتّباعِ سنّت میں گزارنے ڪا ہمارا ذِہْن بن جائے اور ہمیں ہمارے مالڪ نے دُنیاوی زِنْدَگی میں جس ڪام ڪـے لیـے پیدا فرمایا ھـــــے اسے بجا لانے میں ڪـوئی ڪوتاہی نہ ڪـــریں ورنہ مذڪورہ خادِم ڪـی طرح پچھتاوے ڪـے سوا ڪچھ ہاتھ نہ آئے گا اور جب ہماری موت ڪا وقت آئے تو ڪہیں یہ نہ ڪہنے لگیں ڪہ اے ڪاش! ہمیں مزید ڪچھ مہلت مل جائے۔فرمانِ باری تعالیٰ ﷻ ہے:-
وَأَنْفِقُوا مِنْ مَا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ (10) وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ(11)
ترجمہ:- ❞اور ہمارے دیئے میں سے ڪچھ ہماری راہ میں خرچ ڪرو قبل اس ڪـے ڪہ تم میں ڪـسی ڪـو موت آئے پھر ڪہنے لگے اے میرے رب تونے مجھے تھوڑی مدت تڪ ڪیوں مہلت نہ دی ڪہ میں صدقہ دیتا اور نیڪوں میں ہوتا اور ہرگز اللہ ڪـسی جان ڪـو مہلت نہ دے گا جب اس ڪا وعدہ آ جائے اور اللہ ڪـو تمہارے ڪاموں ڪـی خبر ھـــــے❝
{ المنافقون آیت: 11،10}اللہ سبحانہ و تعالٰی ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں عمر ڈھلنے سے پہلے(جوانی میں) ہی آخرت ڪـی تیاری ڪرنے ڪـی توفیق عطا فرمائے
{ آمین ثم آمین یا رب العالمین }

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: