تربیت کا آغاز گھر سے ہی

بچوں کی تربیت کی خواہش ہو اور اس کے سامنے رول ماڈل نہ ہو تربیت کیسے ہوگی؟؟؟ کتابوں سے؟ تقریروں سے، نصحیتوں سے؟ سبق آموز کہانیوں سے؟

بے فکر رہیں رول ماڈل نہ ہو تو ان میں کسی بھی چیز سے بچے کی تربیت نہیں ہوگی۔۔دیکھیں تو بچوں کی تربیت کے لیے اتنے مغر ماری ہورہی ہے، پیرنٹنگ ایکسپرٹس کون کون سی ترکیبیں، نسخے ہیں جو نہ سکھا رہے ہوں ، ہر تھوڑے دن کے بعد تربیت کے بارےمیں ایک نہ ایک کتاب مارکیٹ میں آرہی ہے، ویڈیوز سے یوٹیوب لباب ہے کہ بچے کو کیسے سدھارنا ہے۔۔۔۔ تالہ نہ لگا ہو تو دماغ سوال کرتاہے کہ کیا وجہ ہے اتنے تام جھام کے بعد بھی تربیت بس ایویں ہے,یہ سادہ بات پتا نہیں پیرنٹس کے ذہنوں میں کیوں نہیں آتی کہ بچے کا”لرننگ ٹول” observe & practice یے، اس معاملے میں اس کے پاس pick & choose کا آپشن نہیں ہے، اس لیےنزدیک اور آنکھوں کے سامنے جو چلتے پھرتے لوگ ہیں وہی اس کے” رول ماڈل” ہیں، کتابوں میں کیا لکھا ہے، وہ تو بعد میں پڑھے گا، اسکول ٹیچر کیا بتائیں گی، وقت آنے پر سن لے گا، پیرنٹنگ ایکسپرٹ حقیقت میں کیا سکھاتے تھے یہ بھی پتا چل جائے گا ابھی تو جو سامنے ہیں اور جو کچھ سامنے ہورہا ہے بس وہی تسلی سے سیکھ رہا ہے ۔۔۔۔ادھر پیرنٹس پلاننگ کررہے ہیں کہ بچہ ذرا بڑا تو ہو پھر اس کی تربیت کرتے ہیں

آپ بتائیے اس صورتحال میں اصل گڑ بڑ کہاں ہے؟؟
قصہ مختصر
محمد اسعد الدین

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: