ننھی پری کے یقین کی سچی کہانی

ایک ڈاکٹر جس نے افریقہ میں کام کیا اس کا سچا واقعہ۔ ضرور پڑھیں۔ ایک دفعہ ایک عورت بچے کی پیدائش کے بعد جانبر نا ہو سکی اور ایک دو سال کی اور ایک نومولود پری میچور بےبی کو چھوڑ کے خالق حقیقی سے جا ملی۔

وہ بے حد سردی کی رات تھی کیونکہ ہم ایکوایٹر پہ تھے تو راتیں بےحد ٹھنڈی ہوتی تھیں ۔ اور ہمارا انکیوبیٹر بجلی نا ہونے کی وجہ سے ناکارہ تھا۔ ایک نرس بچے کو لپیٹنے کیلئے کاٹن وول لائی اور دوسری نے آگ جلا کے گرم پانی hot water bottle میں بھرنے کی کوشش کی تو وہ بوتل پھٹ گئی۔ وہاں کوئی دکان نہیں تھی جہاں سے وہ بوتل مل سکتی اور وہ ہمارے لئے بہت قیمتی تھی۔ پریشانی کے عالم میں میں نے نرس سے کہا وہ آگ کے قریب بچے کو سینے سے لگائے رکھیں اور اسے ٹھنڈ سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔ خود میں اگلی صبح قریبی یتیم خانے گیا اور ان معصوم بچوں سے نومولود بے بی کیلئے دعا کا کہا جو اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا ۔ بچے کے بچنے کی ایک واحد امید وہ hot water bottle تھی جو کہ اب ہمارے پاس ختم تھیں۔ ایک بچی نے دعا کی کہ اللہ تعالی ایک گرم پانی کی بوتل بھیج دیں, اور آج ہی بھیج دیں تاکہ بے بی کی جان بچائ جاسکے اور ساتھ ہی میری بہن کے لے گڑیا بھی..

میں نے بجھے دل کے ساتھ پھیکا سا آمین کہا کیونکہ بوتل آنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ہوم لینڈ سے کوئی پارسل بھیجتا اور یہ پچھلے 4 سالوں سے نہیں ہوا۔ اور کوئی بھیج بھی دے تو کیا آج ہی آجائے گا؟ ٹھیک ہے اللہ سب کر سکتا ہے لیکن اسباب کا ہونا بھی تو دنیا میں ضروری ہے۔ شام میں مجھے بتایا گیا کہ ایک گاڑی آپکے گھر کے باہر ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں ایک بہت بڑا پارسل تھا۔ میں دھڑکتے دل کے ساتھ اس پارسل کو لے کر یتیم خانے گیا اور ان بچوں کیساتھ مل کے اس کو کھولا۔ سب سے اوپر ہاتھ کی بنی بہت ساری اونی جرسیاں تھیں جنھیں سب بچوں نے خوشی خوشی تقسیم کرلیا۔ کچھ ہاسپٹل کیلئے بینڈیج اور کچھ کھانے کا سامان۔ اور نیچے؟وہاں تھی ایک بلکل نئی hot water bottle ۔ میں بےحد شاک کے عالم میں اس کو دیکھ رہا تھا کہ وہی دس سالہ بچی میرے پاس خوشی سے آئی اور ڈبے میں ہاتھ ڈال کے وہ گڑیا ڈھونڈنے لگی جو اس نے بوتل کیساتھ مانگی تھی اللہ میاں سے۔ اور اس نے ہاتھ باہر نکالا تو اس میں ایک چھوٹی گڑیا تھی ♡ سبحان اللہ۔

کیا میں آپ کیساتھ جا سکتی ہوں اس بچی کو یہ گڑیا تحفے میں دینے؟ اس نے مجھ سے پوچھا اور میں اس کے کامل یقین پہ اشک بار تھا۔ اس کو ایک بار بھی شک نہیں ہوا تھا کہ اس کی دعا نہیں قبول ہو گی اور اللہ نے اس کے یقین کا مان رکھا۔بےشک اللہ سب کرنے پہ قادر ہے ۔ وہ پارسل 5 مہینے پہلے میری پرانی سکول کلاس نے بھیجا تھا اور اس میں ہاٹ واٹر بوتل اللہ کے حکم سے ڈالی گئی اور ایک بچی نے وہ گڑیا بھی بھیجی اور وہ 5 مہینے تک سفر میں رہنے کے بعد آج پہنچا تھا کیونکہ اللہ نے اس دس سالہ بچی کی دعا کو پورے کا پورا قبول فرمایا تھا اور وسیلہ بنا دیا تھا۔ اللہ اکبر !

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ

اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا
( سورہ غافر۔ آیت 60 )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: