طلاق

یعنی تعلق کا خاتمہ تین لفظوں سے شروع ہو کر تین لفظوں پر ختم بیشک ایک مرد کیلئے یہ تین لفظ بڑے آسان ہیں.

میں ہر مرد کی بات نہیں کر رہا چند عقل سے پیدل مردوں کی بات کر رہا ہوں جن کیلئے طلاق ایک مذاق ہے لیکن اس مذاق سے عورت کی بنیاد ہل جاتی ہے کوئی مرد عورت کی طلاق کے بعد ہونے والی حالت کا تصور بھی نہیں کر سکتا ایک شریف عورت کیلئے طلاق موت سے بدتر صدمہ ہوتی ہے۔۔۔بڑی مشکل سے وہ ایک مرد پر اعتبار کرتی ہے اور یہ گمان کرتی ہے کہ اس کہ بعد میرا کسی مرد پر پردہ نہیں کھولے گا یہ واحد مرد میرے تن من کا وارث ہے لیکن اسی عورت کو جب طلاق ہوتی ہے وہ ایسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے کہ وہ کسی اور کےبارے میں سوچ کر ہی کانپ جاتی ہے۔۔۔عورت جتنی بھی نیک ہو جتنی بھی پارسا ہو وہ دوسرے مرد کو اتنی آسانی سے کبھی قبول نہیں کر پاتی اگر کر بھی لیتی ہے تو ساری زندگی بے اعتباری میں گزار دیتی ہے اکثر ایسی بھی عورتیں میں نے دیکھی جو دوسری شادی کہ حق میں نہیں تھیں لیکن معاشرے کی ستم ظریفیوں سے گھبرا کر انہوں نے دوسری شادی کی لیکن اعتبار نا کر پائی وہ دوسری شادی بھی ختم ہو گئی پھر تیسری ہوئی وہ بھی ختم کرتے کراتے ایک ہی عورت اتنے سارے مردوں سے دھوکہ کھانے کے بعد موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو گئی۔۔۔

میرا مرد ویسے تو برا اعلی ظرف بنتا ہے ویسے تو بڑا طاقت ور بنتا عورت کو بڑی کمزور سمجھتا ہے لیکن سمبھالی اس سے پھر بھی نہیں جاتی اگر برداشت کا مادہ نا ہو تو کوئی تعلق بنانے کی بھی زحمت نا کیا کریں لوگوں کی بہن بیٹیاں کھلونا نہیں ہیں کہ استعمال کیا اور پھینک دیا عورت ہے نادانیاں کرتی ہے جذباتی ہونے کی وجہ سے ناقص العقل ہوتی ہے لیکن مرد کو تو اللہ‎ عقل سلیم سے نوازا ہے مرد تو اپنے جذبات کو قابو میں رکھ ہی سکتا ہے عورت کی بدکاری کے علاوہ ایسی کوئی مضبوط غلطی نہیں ہوتی جو ناقابل برداشت ہو بہادری یہ نہیں کہ غلطیوں پر رشتہ توڑ دو بہادری یہ ہے کہ غلطیوں کو ٹھیک کر کہ ساتھی کو گلے لگایا جاۓ بزدل بندا ہی تعلق توڑتا ہے اور مرد کبھی بزدل نہیں ہوتا اور جو مرد بزدل ہو میری نظر میں وہ مرد ہی نہیں ہوتا مرد کی مردانگی سیکس میں کامیابی نہیں ہوتی مرد کی مردانگی کا پتہ اس کی برداشت سے لگتا ہے اگر ایک مرد میں برداشت نہیں ہے تو وہ شادی کر کے کسی کی بہن بیٹی کی زندگی بھی خراب نا کرے۔۔۔!

ڈاکٹر زارون آفریدی

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: