ہنر آزمائیں

یار کوئی درزن ہے نظر میں جو ڈیڑھ سال کی بچی کے کپڑے سی دے۔پڑوسن نے پوچھا,سنا ہے “باغ حیات” کے علاقے میں کافی عورتیں کپڑے سیتی ہیں ,مگر سلوائے کبھی نہیں۔

اچھا اگر آج آپ کے پاس ٹائم ہو تو میرے ساتھ چلیں معلوم کرتے ہیں جا کرشاید کوئی اچھی درزن مل ہی جائے,آئمہ کے کپڑے سلوانے ہیں۔ٹھیک ہے۔آپ تیار رہنا میں ایڈریس لیتی ہوں بھابھی سےباغ حیات پہنچے، درزیوں کا ایک جہاں آباد تھا۔۔۔قدم قدم کے فاصلے سے درزی کی دکانیں تھیں۔۔۔ جگہ جگہ لوگ سٹال پر سموسہ پٹی اور رول پٹی لیکر بیٹھے تھے۔یہ سب دیکھتے دیکھتے ہم ایک درزن کے گھر پہنچے سیڑھیوں تک بچوں کے سیپارہ پڑھنے کی آوازیں آرہی تھیں, لگتا ہے ہم غلطی سے کسی مدرسے آگئے ہیں شاید ہماری پڑوسن نے کہااوپر جا کر دیکھتے تو ہیں دیکھنے میں کیا حرج ہے۔۔۔گھر میں داخل ہوئے تو ماشااللہ ڈھیروں بچیاں قرآن پاک سیکھنے میں مشغول تھیں۔۔۔بہت خوشی ہوئی کہ سیکھنےوالا سکھا کر اپنے حصے کی شمع روشن کر رہا ہے۔خیر سلام دعا کے بعد پتہ چلا یہاں سلائی کا کام بھی کیا جاتا ہے۔۔مگر جو کپڑےسیتی ہیں وہ فی الحال آنکھ کے آپریشن کی وجہ سے کپڑے سینے سے قاصر تھیں ,ہم ان سےدوسری درزن کا ایڈریس لی کر شکریہ ادا کرتے ہوئے دوسری درزن تک پہنچے۔ نہایت خوبصورت لڑکی نے دروازہ کھولاگھر کیا تھا

سلیقے کا شاندار نمونہ خیر تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ضرورت کے تحت کپڑے نہیں سیتیں اللہ نے انہیں بہت نوازا ہوا تھا مگر چونکہ اولاد نا تھی تو اپنے آپکو مصروف رکھنے کے لئے اور اپنے ذاتی اخراجات میں تحفے تحائف کے لین دین میں بار بار شوہر کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچانے کے لئے وہ اپنا ہنر کام میں لاتی ہیں۔۔ہم پر سوچ کا ایک نیا در وا ہوا مگر کپڑے لینے سے انہوں نے بھی صاف انکار کردیا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے والا ہے اور وہ رمضان میں سلائی نہیں کرتیں ان سے ایک اچھا سبق لیتے ہوئے ہم ایک اور درزن کے پہنچے۔۔
یہاں پر بھی سلائی مشین کی گونج نا تھی البتہ بچے پڑھ رہے تھے۔۔کمر درد کی وجہ سے سلائی کا کام چھوڑ دیا تھا۔۔اور میاں کا گھریلو اخراجات میں ہاتھ بٹانے کی غرض سےاب وہ ٹیوشن پڑھا رہی تھیں۔ابھی ہم مایوس ہو ہی رہے تھے کہ انہوں نے ہمیں ایک اور درزن کا پتہ تھما دیا۔سیڑھیاں اترتے چڑھتے تھک گئے تھے۔۔گرمی سے برا حال بھی تھا۔۔ مگر غرض مند دیوانہ ہوتا ہے کہ مصداق ہم پھر ایک درزن کے در پر تھے۔گھر کی دہلیز سے ہی گھر کر بد نظمی اور انتشار کا اندازہ ہو رہا تھا۔۔دو بچے رو ریے تھے دو لڑ رہے تھے عجیب سا شور اور افرا تفری سی تھی۔

ہونق ہونق سی اٹھائیس سے تیس سال کی لڑکی نے آنے کا مدعا پوچھا۔۔ہم نے کہا کچھ کپڑے سلوانے ہیں۔۔۔ میرے میاں نے منع کردیا ہے اب میں کپڑ ے نہیں سیتی۔۔خاندان والے بھی باتیں بناتے تھے۔۔اسلئے یہ کام چھوڑ دیا،ہمارے دل کو جھٹکا سا لگا۔۔جو ضرورتیں ننگی ہو کر سامنے کھڑی تھیں وہاں لوگوں کے خوف سے ہنر ڈر گیا تھا۔۔ہم کپڑے تو نا سلوا سکے مگر درزن کی اس تلاش سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔۔۔ہم نے اس چھوٹے سے سفر میں دیکھا کہ کئی لوگ اپنا ہنر آزما رہے تھے۔۔کچھ اپنا علم بانٹ رہے تھے۔۔اگر آپ بھی ایسا کوئی علم وہنر رکھتے ہیں تو اسے کام میں لائیں ایک دوسرے کا سہارا بنیں کہ یہ کٹھن وقت ہے۔۔محض لوگوں کے خوف سے معاشی تکلیف نا اٹھائیں،اپنا ہنر ضرور آزمائیں اور اپنی زندگی کو آسان کریں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: