حضور ء اقدس ﷺ کے بالوں کی برکت

حضرت أم المومنین أم ء سلمیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حضور علیہ ﷺکے کچھ بال تھے جن کا رنگ تھا . أنہوں نے وہ بال بحفاظت چاندی کی ایک ڈبیہ میں رکھے ہوئے تھے .

فرماتی ہیں کہ مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگ میرے پاس آتے ” میں ڈبیہ کو پانی میں رکھ دیتی اور مریضوں کو وہ پانی پلا دیتی تھی .اللہ أن کو شفا عطاء فرما دیتا تھا .حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹوپی جنگ ء یرموک کے دوران زمین پر گر گئ وہ جنگ ہی کے دوران اپنی سواری سے أترے اور ٹوپی أٹھائ ” کسی نے کہا آپ جیسے تجربہ کار جرنیل سے ایسی غلطی کی کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی .اگر خدانخواستہ کوئی نقصان ہو جاتا تو أس کی تلافی ممکن نہ تھی . حضرت خالد نے فرمایا ! سب سے بڑا نقصان اس ٹوپی کا ضائع ہونا تھا . اس میں میرے آقا صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سر کے بال سلے ہوئے ہیں جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ مجھے فتح و نصرت سے نوازتا ہے میں کبھی مغلوب نہیں ہوتا-حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حضور ﷺ کے کچھ مبارک بال محفوظ تھے .آپ نے وصیت فر مائ کہ مجھے دفن کرنے سے پہلے یہ مبارک بال میری زبان کے نیچے رکھ دینا . مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بالوں کی برکت سے میری مغفرت فرما دے گا .

(جان عالم صل اللہ علیہ ہسلم:صفحہ 718-719)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: