خود کو بدلیں سال تو ہر سال بدل جاتا ہے

خود کو بدلیں سال تو ہر سال بدل جاتا ہے.مسلمان کی زندگی اللہ تعالی کے احکامات کی پابند ہوتی ہے،ایک مسلمان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔

وہ دنیا کے اندر آزاد نہیں ہے بلکہ ہر چیز میں اس کے اردگرد دین اسلام کی باڑ ہے اور اسے احتیاط کے ساتھ چلنا ہے۔مسلمان کسی کی اندھی تقلید نہیں کرتی بلکہ شریعت محمدی جو اتاری ہی اس لیے گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو گزارنے کا طریقہ معلوم کرسکے،یہ نہیں کہ جیسے دل چاہا گزار لی اور یونہی زندگی تمام ہوگئی۔مسلمان کبھی بھی کسی سے متاثر نہیں ہوتا،اللہ کو ناراض کرنے والوں کی مشابہت اختیار نہیں کرتا بلکہ جو اللہ کے محبوب ہیں ان کی اتباع کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے “من تشبه بقوم فهو منهم” یعنی جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان میں سے ہوگا۔نیا سال شروع ہونے پر نیو ایئر نائٹ کے نام پر خوشیاں منانا،رقص و سرور کی محفلیں سجانا،شراب و کباب میں مست ہوجانا،بے بہا پیسہ گناہوں پر بہانا،ہر وہ چیز کرنا جس سے اللہ کا عرش ہل جائے،اللہ کا غیبی نظام حرکت میں آجائے،آسمان پھٹ پڑنے کے لیے اللہ سے اجازت مانگے،زمین درخواست کرے کہ اے اللہ کیا میں اس باغی کو اپنے اندر سمو لوں،سمندر کی لہریں جوش میں آجائیں،ارے کیا ہوگیا تجھے اے مسلمان؟؟کس غفلت کی زندگی میں مدہوش ہوگیا،مسلمان تو وہ ہے جس کی صفات کو قرآن بتاتا ہے کہ وہ بیہودہ کاموں،بے حیائی،لغو باتوں سے پرہیز کرتے ہیں.

ان سے دور رہتے ہیں،ان میں مشغول ہونا تو دور کی بات،ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔اے میری مسلمان ماؤں بہنوں،میرے بھائیوں آج رات امت کا ایک بہت بڑا طبقہ اللہ کو ناراض کرے گا،شیطان کو خوش کرے گا،جہنم کو خریدے گا،جنت داؤ پر لگائے گا،خدارا تم ان میں سے نہ ہوجانا،آج ان تمام غیروں کے طریقوں کا بائیکاٹ کردو،اعلان کردو کہ آج جب لوگ اللہ کو ناراض کررہے ہوں گے تو میں اپنے رب کی چوکھٹ پر پڑ جاؤں گی،اسے رو رو کر مناؤں گی،اس سے دوستی لگاؤں گی۔اصل تبدیلی تو اعمال کی تبدیلی ہے،اپنی ذات کی تبدیلی ہے،اپنی سوچوں کی تبدیلی ہے،سال و ماہ تو تبدیل ہوتے ہی رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: