قرآن سے متعلق رسول ﷺ کا فرمان

’’حضرت عبد ﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

بیشک یہ قرآن ﷲ تعاليٰ کا دسترخوان (عطیہ و نعمت) ہے۔ جہاں تک ممکن ہو اس کے دستر خوان میں سے حاصل کر لو. یہ قرآن ﷲ تعاليٰ کی رسی، چمکتا دمکتا نور اور (ہر روگ و پریشانی کا) نفع بخش علاج ہے۔جو اس پر عمل کرے اس کے لیے (باعثِ) حفاظت اور جو اس کی پیروی کرے اس کے لیے (باعثِ) نجات ہے۔ یہ جھکتا نہیں کہ اس کو کھڑا کرنا پڑے۔ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کرنا پڑے۔ اس کے عجائب (رموز و اسرار، نکات و حِکم) کبھی ختم نہ ہوں گے اور بار بار کثرت سے پڑھتے رہنے سے بھی پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس سے دل نہیں بھرتا) اس کی تلاوت کیا کرو کیوں کہ ﷲ تعاليٰ اس کی تلاوت پر تمہیں ہر حرف کے عوض دس نیکیوں کا اجر عطا فرماتا ہے۔یاد رکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ الۤم ایک حرف ہے۔بلکہ الف (ایک حرف ہے)، لام (ایک حرف ہے) اور میم (ایک حرف ہے گویا صرف الۤم پڑھنے سے ہی تیس نیکیاں مل جاتی ہیں).‘‘اس حدیث کو امام دارمی، ابن ابی شیبہ، عبد الرزاق اور حاکم نے مذکورہ الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز حاکم نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: