زندگی کے کچھ اصول بنائیے

اس وقت رات کے دس کا ٹائم ہیں۔ سب کے سو جانے کے بعد میں یہاں آتش دان کے سامنے آن بیٹھی ہوں۔ عین اس لمحے جب احساسِ تشکر سے دل سینے میں پھیلتا سا ہے، میں دھیمے سے مسکراتے ہوئی سوچتی ہوں، کتنا ہی کچھ! آپ سے بھی کہوں؟

لوگوں کو محبت دیں ,لیکن توقعات کم سے کم رکھیں۔ اتنا کریں جتنا تا دیر نبھا سکیں۔جہاں جہاں لوگ توقعات پر پورا نہ اتریں، ان کے لئے عذرتراشیں۔ جانے کیا مجبوری ہو۔دوستوں کو کبھی نہ آزمائیں۔ بد ترین دنوں میں بھی مسکرانے کی وجہ تلاشیں۔ شکر گزار رہیں اللہ کے، لوگوں کے۔شکایتی، ملامتی رویہ بدلیں۔سب سے ملیں۔ محبت سے، خلوص سے لیکن بہت کم لوگوں کو اپنے بہت پاس نہ آنے دیں .دوستوں کے چناؤ میں احتیاط برتیں۔ کچھ اللہ والے دوست ضرور رکھیں، چاہے خود کو آپ پارسا نہ گردانتے ہوں۔اسی طرح کچھ کم عمر دوست بھی ہوں جو آپ کو عمر کے کسی بھی حصے میں نوجوان رکھیں۔کسی کو جج نہ کریں,جانے کون کس محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے۔پرفیکشن کی دوڑ سے نکل آئیں۔ ایک بار اپنی طرف کی وضاحت کریں اور بس۔ جو سمجھنا چاہے گا پہلی بار میں سمجھے گا۔
لمبی چوڑی وضاحتیں طلب بھی نہ کریں۔معاف کریں۔ایک بار، دو بار، ہزار بار۔ بار بار!,خوف سے لڑ جائیں۔ ایک انوکھا اعتمادپائیں گے آپ جھک جانا بھی سیکھیں اور تن کے کھڑا ہونا بھی سب ہمیں پسند نہیں کرتے تو خیر ہے، ہم بھی ہر ایک کو تو پسند نہیں کرتے۔لوگوں کو مسلسل خوش کرنے کی سعی چھوڑ دیں۔

کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اسی سے کہیں،بجائے یہاں وہاں ڈھنڈورا پیٹنے کے۔مصروف ترین دنوں میں سے بھی کچھ وقت نکالیں جب اپنی مرضی کا کوئی کام کریں۔ کوئی پریشر لیے بغیر، سب بھول کر۔ بس اپنے لئےفطرت کے ساتھ جڑے رہیں۔ سیکھنے کے لئے عمر کی حد قائم نہ کریں۔ اصلاح، امپروومنٹ جاری رہے۔بڑھتی عمر کے ساتھ اپنا لائف سٹائل بدلیں۔اور اللہ سے دوستی پکی رکھنی ہے. دعا قبول ہو نہ ہو، مانگتے جانا ہے۔ کسی دن اللہ تعالی سرپرائز دیتے ہیں ایک دم سےفیس بک کے حوالے سےسب سے اخلاق سے بات کریں .لیکن محتاط فاصلہ رکھیں۔جو لوگ آپ سے بے تحاشا محبت کا اظہار کریں، ان سےبالخصوص بچیں۔یہ آپ کو آسمان پر بٹھائیں گے، چار دن بعد وہیں سے پٹخیں گے۔کسی بھی اچھی شخصیت سے متاثر ہوں .لیکن اتنے مرعوب نہ ہو جائیں کہ اپنی شخصیت کا وقار ہی باقی نہ رہے۔ جو لوگ آپ کی نیت پر شک کریں، آپ کے کردار پر باتیں کریں، آنِ واحد میں انہیں بلاک کریں اور ایسوں کو پھر پلٹ کر نہ دیکھیں۔ معاف بہرحال کر دیں۔ خاموشی کو بہترین جواب جانیں۔ دوسروں کی زبان ہم نہیں پکڑ سکتے، لیکن اپنا ریسپانس پر وقار رکھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: