دال کا عذاب

ایک شخص کی شادی ہوئی تو باوجود مال دار و صاحبِ ثروت ہونے کے بیگم کے نان نفقہ کے حوالے سے بڑی کنجوسی سے کام لیتا۔ کھانے پینے کے حوالے سے موصوف کو دال کے علاوہ کوئی اور کھانا سوجھتا ہی نہیں تھا.

خود تو دال پر گزارا کرتا، ساتھ میں بیوی کو بھی اسی ایک سالن پر گزارا کرنے پر مجبور کر دیا۔ تنگ آکر جب کبھی بیوی دال کے علاوہ کچھ اور سبزی، گوشت لانے کا کہتی تو جوابا بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کروا دیتا اور دال کے فوائد گنوانا شروع کر دیتا۔ایک دن بیوی اپنے مائیکے گئی تو اس کے بھائیوں نے بہن کے اترے چہرے، پھیکی پڑتی رنگت اور نقاہت زدہ جسم کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ بہن خوش نہیں ہے۔ وجہ دریافت کرنے پر پہلے پہل تو بہن نے بات ٹالنا چاہی، مگر بھائیوں کے اصرار پر شوہر کی کنجوسی اور دال کا قصہ سنا ڈالا۔ بھائیوں نے کہا کہ : اس کا معاملہ ہم پر چھوڑ دو، بس یہ نیند کی گولی لے جا کر اس کے کھانے میں ڈال دینا۔بہن نے واپس گھر آ کر شوہر کے لیے اس کی من پسند ڈش ( دال) بنائی اور وہ نیند کی گولی اس کے سالن میں ڈال کر اسے کھلا دی۔اب شوہر جیسے ہی نیند کی گہری وادیوں میں اترا تو اس عورت کے بھائیوں نے آ کر پہلے اس کے کپڑے اتار کر اسے کفن میں لپیٹا، پھر اس کی چار پائی اک اندھیرے، تاریک کمرے میں لے گئے۔جیسے ہی وہ نیند کی وادیوں کی سیر سے واپس آیا تو اپنے آپ کو کفن میں ملفوف پا کر سمجھا کہ شاید اس کی موت ہو چکی ہے۔

اس کے اس گمان کو یقین میں بدلنے کے لیے عورت کے دو بھائی ( دنیاوی) منکر، نکیر بن کر حاضر ہوئے اور سوالات کا سلسلہ شروع کیا : من ربک؟ ” ( تیرا رب کون ہے؟)بخیل : ربی اللہ ما دینک؟ ” ( تیرا دین کونسا ہے؟ دینی الإسلام من الرجل الذی بعث فیکم؟ ( نبی کون ہیں؟) محمد ﷺ جب ان تین سوالوں کے جواب دے چکا تو ایک چوتھا سوال داغا گیا : دنیا میں کھانا کیا کھاتے تھے؟اب کی بار جواب دیا : میں نے تو دال کے علاوہ کوئی کھانا چکھا ہی نہیں کبھی,اب اس جواب پر یہ کہتے ہوئے اس کی پکڑ ہو گئی کہ : دال کے علاوہ کبھی کچھ کیوں نہیں کھایا؟ جبکہ اللہ نے فرمایا : ہمارے عطا کردہ پاکیزہ رزق میں سے خوب جی بھر کر کھاؤ پیو۔” لہذا اب تمہاری سزا یہ ہے کہ تمہیں قیامت تک کوڑے مارے جائیں، اور یہ کہ کر اس پر کوڑوں کی ایسی برسات کی گئی کہ بیچارہ درد کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش ہو گیا۔اب فوراً اسے واپس اسی جگہ لِٹا دیا جہاں سویا تھا اور واپس کپڑے تبدیل کر دیے۔جیسے ہی اسے ہوش آیا تو درد سے کراہتے ہوئے بیوی کو سامنے دیکھ کر حیرانی کے عالم میں بولا : ہیں. میں زندہ ہوں؟ ہاں، تمہیں کیا ہونا تھا بھلا؟… ٹھہرو میں دال بنا کر لاتی ہوں۔

بیوی یہ کہ کر مڑنے ہی لگی تھی کہ فورا اس نے چلاتے ہوئے آوازدی:نہییییییییں! دال نہیں، دال کا عذاب بڑا سخت ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : ہمارے دیے ہوئے پاکیزہ رزق میں سے خوب کھاؤ پیو ” اس لیے میں گوشت لے کر آتا ہوں آج وہ پکائیں گے۔”

( عربی سے اردو)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: