مستقبل کی فکر چھوڑ دیں

مستقبل کی فکر کرنا خود اذیتی کے سوا کچھ نہیں ۔ اسے ضیاع وقت بھی کہہ سکتے ہیں۔ انسان بڑا ناسمجھ واقع ہوا ہے.سانسوں کی مالا کب بکھر جائے,کب بدن سے روح کھینچ لی جائے,کب دل تھم جائے.کون جانتا ہے ؟

رسول خدا ﷺ کو خدشہ رہتا تھا کہ ایک سلام سے دوسرے سلام پھیرنے تک زندگی باقی رہے گی بھی یا نہیں پھر آج کا انسان کل کی فکر کیسے لے کر بیٹھ گیا ؟دنیا امید پر قائم ضرور ہے مگر توکل علی اللہ مومن‌ کا شیوہ ہے ۔وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ط وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌم بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ط اِنَّ اللهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌo(لقمان، 31 : 34)”اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا (عمل) کمائے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کِس سرزمین پر مرے گا بے شک اللہ خوب جاننے والا ہے”.آپکو فکر کرنی چاہیے مگر آخرت کی، رات میں اپنا تھکا ہوا بدن بستر پر رکھتے ہوئے یہ ضرور سوچا کریں,یہ تھکن کس کام کی عطا کردہ ہے؟میں نے صبح سے رات تلک کون سا کام آخرت کے لیے بھیجا ہے ؟
آپکو یہی فکریں لاحق ہونی چاہیےدنیا کے لیے جان توڑ محنت مت کریں ، گھاٹے کا سودا ہوگا۔ والۡعَصۡرِ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ
اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ(س العصر )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: