حضرت ابراہیم ع کا نمرود سے مناظرہ

نمرود بابل کا بادشاہ تھا علماء کے مطابق جن چار بادشاہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی نمرود ان میں سے ایک ہے۔ ان چار میں سے دو مومن تھے اور دو کافر۔ مومن “ذوالقرنین” اور ” سلیمان علیہ السلام” ہیں اور کافر نمرود اور بخت نصر ہیں۔

نمرود مسلسل چار سو سال تک بادشاہ رہا۔ اس نے سرکشی، ظلم اور تکبر کا راستہ اختیار کیا اور آخرت کی بجاۓ دنیا کا حصول پیشِ نظر رکھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی تو اس نے جہالت اور گمراہی کی وجہ سے خالق کا انکار کر دیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے بحث کی لیکن وہ مردود خدائی کا دعویٰ کرنے لگا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان مناظرہ اس دن ہوا ، جس دن وہ آگ سے نکلے۔ اس سے پہلے انکا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ جس دن وہ اکٹھے ہوۓ اس دن یہ مناظرہ واقع ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:”ربی الذی یحی و یمیت” ۔” میرا رب زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔” اس نے کہا “انا احی وامیت”، ” میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔”اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے اس جاہل نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا.

اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جسے چاہوں نہیں مارتا اس طرح سب کو فریب دینے کی کوشش کی کہ اس نے ایک کو موت دے دی اور دوسرے کو زندگی بخش دی ہے۔اسکا یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل کا جواب نہیں تھا اور نہ ہی اسکا موضوع مناظرہ سے کوئی تعلق تھا .بلکہ یہ ایک بیکار بات تھی جس سے ظاہر ہوا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دلیل پیش فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ جانداروں کا جینا مرنا عام مشاہدے کی چیز ہے کیونکہ یہ واقعات خود بخود پیش نہیں آ سکتے لہٰذا ضرور کوئی ایسی ذات موجود ہے جسکی مشعیت کے بغیر ان اشیاء کا وجود میں آنا محال ہے۔ لازمی ہے کہ ان واقعات کا کوئی فاعل ہو جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں اپنے اپنے نظام کا پابند کیا جو ستاروں، ہواؤں بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے اور بارش برساتا ہے۔ ان جانداروں کو پیدا کرتا ہے جو ہمیں نظر آتے ہیں اور پھر انکو موت سے ہمکنار کرتا ہے اسی دلیل پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا پروردگا تو وہ ہے جو پیدا کرتا ہے اور مارتا ہے۔ لیکن اس جاہل بادشاہ نے جو کہا کہ میں بھی زندہ کر سکتا ہوں اور مار سکتا ہوں.

اگر اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ نظر آنے والے کام اسکے کنٹرول میں ہیں تو یہ سراسر ضد اور ہٹ دھرمی کا اظہار ہے اور اگر اس سے مراد قیدیوں کا واقعہ ہے تو اسکا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش کردہ دلیل سے کوئی تعلق ہی نہیں پس وہ دلیل کے مقابل دلیل پیش نہ کر سکا.چونکہ بحث میں نمرود کی شکت کا یہ پہلو ایسا ہے جو کہ حاضرین یا دوسرے لوگوں میں سے بہت سے افراد کی سمجھ میں آنے والا نہیں تھا اسلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اور دلیل پیش کر دی اور اسے سب کے سامنے لاجواب ہونا پڑا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”ابراہیم نے کہا کہ اللہ تو وہ ہے جو سورج کو شرق سے نکالتا ہے لہٰذا تو اسے مغرب سے نکال دے۔”یعنی یہ سورج روزانہ مشرق سے نکلتا ہے جسے اسکو پیدا کرنے والے اور چلانے والے نے مقرر کر رکھا ہے۔ اگر تو ہی زندگی اور موت کا مالک ہے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے کہ تو زندہ کرتا اور موت دیتا ہے تو اسکو مغرب سے لے آ۔ کیونکہ جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار ہو وہ جو چاہے کر سکتا ے اسے نہ منع کیا جا سکتا ہے اور نہ مغلب کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہوتا ہے اور ہر چیز اسکے حکم کی پابند ہوتی ہے اگر تیرا دعویٰ سچا ہے تو یہ کام کر۔

ورنہ ثابت ہو جاۓ گا کہ تیرا دعویٰ غلط ہے ، اور یہی حقیقت ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ تو اسقدر عاجز ہے کہ ایک مچھر بھی پیدا نہیں ر سکتا.اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسکا جاہل اور عاجز ہونا واضح فرما دیا لہٰذا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا اور اسکا منہ بند ہو گیا۔ اسی لئے اللہ پاک فرماتا ہے:”فبھت الذی کفر ط واللہ لا یھدی القوم الظلمین” ترجمہ: ” یہ (سن کر) کافر ششدر رہ گیا اور اللہ بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔”نمرود نے اشیاء خوردنی کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا تھا، لوگ غلہ لینے کے لئے اس کے پاس جاتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی دوسروں کیساتھ غلہ لینے گئے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو غلہ دینے سے انکار کر دیا۔ آپ خالی ہاتھ لوٹے اور گھر کے قریب پہنچے تو دونوں بورے مٹی سے بھر لئے اور سوجا کہ جب میں گھر پہنچوں گا تو گھر والے مطمئن ہو جائیں گے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے بورے اتارے اور خود سو گئے۔ آپکی زوجی محترمہ حضرت سارہ اٹھ کر بوروں کے پاس گئیں تو دیکھا کہ وہ عمدہ غلے سے بھرے ہوۓ ہی انہوں نے کھانا تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیدار ہوۓ تو دیکھا کہ کھانا تیار ہے۔

انہوں نے پوچھا: “یہ کھانا کہاں سے آیا؟”۔ زوجہ محترمہ نے فرمایا کہ جو آپ لاۓ تھے اسی سے تیار کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ اللہ پاک نے معجزانہ طور پر عطا فرمایا ہے۔نمرود مردود ہر بار توحید کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا بالآخر بولا ” تو اپنے لشکر جمع کر لے میں اپنے لشکر جمع کرتا ہوں” تاکہ تیرے خدا کے ساتھ میرا مقابلہ ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایان اے مردود! تو اپنا لشکر جمع کر میرا خدا کن فیکون میں جمع کر دے گا۔ تب وہ مردو مشرق و مغرب کی فوج کو جمع کرنے میں لگ گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخری بار بھی اسکو ہدایت کی دعوت دی لیکن اس مردود نے کہا کہ مجھے تیرے خدا کی کچھ حاجت نہیں۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی کہ اے مالک! یہ ملعون نافرمان تیرے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے اسکو ہلاک کر ۔ تیری مخلوق میں مچھر ادنیٰ اور ضعیف ہے اور کئی جانوروں کی خوراک بنتا ہے میں تیری رحمت سے اس مچھر کو مانگتا ہوں کہ وہ اس مردود کا خاتمہ کرے پس انکی دعا قبول ہوئی ۔نمرود نے اپنی فوج کو میدان میں اکٹھا کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اگر تیرا خدا چاہے تو زمین کی حکومت ہم سے چھین لے مگر اس سے پہلے میری فوج کا مقابلہ کرے ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا کہ مردود دیکھ میرے خدا کی فوج آ گئی ہے نمرود نے دیکھا کہ مانند ابرِ سیاہ ہوا پر کچھ چلا آتا ہے۔ یہ دیکھ کر لشکر میں ہلچل مچ گئی مچھروں کا شور پھیل گیا اور اس مردود کا سارا جوش و خروش جاتا رہا۔یوں اللہ پاک نے اس لشکر پر مچھر مسلط کر دئیے انہوں نے انکا گوشت اسطرح کھا لیا کہ صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں، ایک مچھر اس پلید نمرود کی ناک میں گھس گیا اور دماغ میں جا کر اسکا مغز کھانے لگا۔ مردود اس عذاب میں گرفتار ہوا کہ جسکا چارہ کچھ نہ ہو سکا وہ ہر کسی سے سر پر لکڑی یا ہتھوڑا مرواتا جس سے مچھر کچھ پل دم لیتا اور اسکو چین آتا، شب و روز اسکے سر پر سونٹے کھاتے ہوۓ گزرنے لگے حتیٰ کہ اللہ پاک کے حکم سے وہ مردود کفر کی حالت میں ہلاک ہو گیا۔

بحوالہ قصص الانبیاء

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: