انمول تحفہ

سونے سے پہلے احسن کی انوکھی فرمائش ہوتی ہے ۔مما نانا ابو کو تحفہ بھیجنا ہے ۔سورتیں پڑ ھا دو۔کچھ آیات پڑھ کر کہتا ہے ۔اللہ جی میرا یہ گفٹ نانا ابو کو پہنچا دیں۔ اور پھر اطمینان سے سو جاتا ہے ۔

اس کا مطمئن آنکھیں موند کر سو جانابتاتا ہےکہ تحفہ مقام پر پہنچ چکا۔احسن تحفہ بھیجنا کیوں نہیں بھولتا ایک لمبی داستاں ہے نانا نواسے کی محبت کی ۔وہ حیات تھے تو احسن کے لۓ کبھی تحفہ لانا نہیں بھولتے تھے۔ نانا ابو کا سب سے بڑا تحفہ اسے اپنے ساتھ عمرے کے لیۓ لے جا نا تھا۔
نانا کی دو مقبول دعائیں تھیں ۔جن کا تذکرہ جب بھی ہوتا آنکھیں نم کر دیتا۔1982 میں وہ ڈھاکہ جہاز پر پہلی مرتبہ عمرے کے لۓ گۓ کہ یہ پاک نیوی کا بحری جہاز تھا جو ہر سال تیل لینے سعودی عرب جاتا۔ یوں انھوں نے سات دفعہ عمرے کیۓ ۔وہاں دوران طواف دعا کی۔میرے رب مجھے یہ سعادت بخش کہ میں اپنے والدین کا ہاتھ پکڑ کر تیرے گھر کا طواف کرواؤں۔ان کی دعا قبول ہوئ۔1988 میں جب دادا دادی حج کے لۓ نکلے ۔انھی دنوں ڈھاکہ جہاز ایک بار پھر ارض مقدس کی طرف عازم سفر ہوا۔والد صاحب اکثر یہ بتاتے ہوۓ جذباتی ہو جاتے۔جب وہ اچانک والدین سے حرم کعبہ میں ملےاور پھر دونوں کا ہاتھ پکڑ کر طواف کروایا تو تشکر کا احساس ہر عضو پر چھایا تھا۔ 2016 میں جب حج پر گۓ ۔تو ان کی ایک اور دعا تھی ۔میرے رب مجھے میرے بچوں کے ساتھ بلانا۔2018 میں اللہ ربی نے ان کی یہ دعابھی قبول فرمائی۔

احسن سے اتنا لگاؤ تھا کہ اسے گھرچھوڑنے پر آمادہ نہ ہوۓ اور یوں ساڑھے تین سال کے احسن بھی اس مبارک سفر میں ہم سب کے ساتھ تھے۔ یہ نواسے کے لۓ نانا کا انمول تحفہ تھا۔تین سال ہوگۓ۔خانہ کعبہ اور مسجد نبوی اسے آج بھی نہیں بھولتی حرم کعبہ کی باتیں مسجد نبوی کی چاہتیں شروع ہوں تو پھر ختم نہیں ہوتیں ۔بچپن میں یہ ایک انمٹ نقش ہے جو اس کےننھے ذہن پر بنا۔یہیں انمول آرزؤں نے جنم لیا۔مسجد میں نماز کے بعد اس کی ایک آرزو کے اظہار نے رلا ہی تو دیا۔کہنے لگا مما میں بڑا ہو کر اس مسجد میں نماز پڑھاؤں گا ۔ وہاں کی گئی آرزوئیں رد نہیں کی جاتیں میرا ایمان ہے۔منتظر ہوں اس دن کی جب اس آرزو کو بھی شرف قبولیت ملے گی انشاء اللہ۔خانہ کعبہ سے ہوٹل جانے آنے کے راستے میں دکانوں سے گزر ہوتا ۔دکانداروں کا پروفیشنل انداز کہ کھلو نے چلا کر رکھتے اور بچے مچل جاتے پھر نانا ابو تھے کہ لے کر ہی دیتے۔مصنوعی کھلونے ٹوٹنے کے تھے ٹوٹ گۓ ۔انمول تحفے کے نقوش ہیں کہ کبھی مٹ نہ پاۂیں گے۔اللہ جی احسن کے نانا کو جنت کے ارفع درجات پر جگہ دے اسے ہم سب کے لئےصدقہ جاریہ بنائے اس کے حرم کعبہ کے نقوش کو اس کی زندگی کے ہر لمحے پر غالب کر دے۔ اور جن کے پاس یہ خوبصورت رشتے ہیں انھیں قدرداں بناۓ۔آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: