چھوٹا کام

جب ہم بابا جی کے پاس ڈیرے پر گئے تو انہوں نے ہمیں مٹر چھیلنے پر لگا دیا ۔ میں نے تھری پیس سوٹ پہن کر ٹائی لگا رکھی تھی ، لیکن مٹر چھیل رہا تھا ۔

حالانکہ میں نے زندگی میں کبھی مٹر نہیں چھیلے تھے ۔ پھر انہوں نے لہسن چھیلنے پر لگا دیا اور ہاتھوں سے بو آنا شروع ہوگئی ۔ پھر حکم ہوا کہ میتھی کے پتے اور ’’ڈنٹھل‘‘الگ الگ کر دو ۔ اس مشقت سے تو اب خواتین بھی گھبراتی ہے ۔ہماری ایک بیٹی ہے اس کو کوئی چھوٹا سا کام کہہ دے کہ بھئی یہ خط پہنچا دینا ۔ تو کہتی ہے ، بابا ! یہ معمولی سا کام ہے ۔ مجھے کوئی بڑا سا کام دے اتنا بڑا کہ میں آپ کو وہ کر کے دکھاؤں (کوئی شٹل میں جانے جیسا کام شاید) میں نے کہا یہ خط تو پہنچا دیتی ! کہنے لگی ، یہ تو بابا بس پڑا ہی رہ گیا میرے پاس ۔چھوٹے چھوٹے کاموں سے بابوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سے ہماری زندگی میں ’’ڈسپلن‘‘ آئے ۔ ہمارے دین میں سب سے اہم ’’ڈسپلن‘‘ ہے ۔ اسلام ڈسپلن سکھاتا ہے ۔ دین میں ہر معاملے میں ڈسپلن سکھایا گیا ہے ۔ ہمارے بابے کہتے ہیں ، ڈسپلن چھوٹے کاموں سے شروع ہوتا ہے ۔ جب آپ معمولی کام کو اہمیت نہیں دیتے اور ایک لمبا سا منصوبہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں ، اپنا ذاتی اور انفرادی ، تو پھر آپ سے اگلا کام چلتا نہیں ۔
اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے آئے.(زاویہ ۲ ص 27)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: