وضو کا مکمل اور مسنون طریقہ

وضو کا مکمل اور مسنون طریقہ حدیث مبارکہ کی روشنی میں.وضو شروع کرنے سے پہلے:وضو سے پہلے طہارت کی نیت کریں،ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:ہر کام کا دارومدار نیت پر ہےصحیح بخاری.

وضو کی نیت زبان سے کرنا صحیح نہیں ہے،کیونکہ یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں نیند سے جاگنے والا آدمی پانی کے برتن میں هاته ڈالنے سے پہلے اپنے ہاتهوں کو دهوئے.اگر وضو والے اعضاء میں سے کسی عضو پر پینٹ،نیل پالش یا کوئی ایسی چیز لگی ہو جس سے پانی جلد تک نہ پہنچے،تو اسے وضو سے پہلے اتارنا ضروری ہے،کیونکہ اگر جلد تک پانی نہ پہنچے تو وضو نہیں ہوتا.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر وضو کرو-نسائی:8787مزید فرمایا: “جو شخص وضو کے شروع میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہو گا”
ابو داؤد:101وضو کے شروع میں مکمل”بسم اللہ الرحمن الرحیم”پڑهنے کا ذکر کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے اس لیے صرف”بسم اللہ”کہناچاہی,وضو کرتے ہوئے ہر عضو میں پہلے دائیں طرف دهوئیں پهر بائیں طرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں:- “نبی اکرم کو طہارت میں دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تها”بخاری:5854دونوں ہاتھ کلائیوں تک دهوئیں بخاری:186,ہاتھ اور پاؤں دهوتے وقت پوروں کو اچهی طرح مل کر دهونا چاہئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” دس “چیزیں فطرت میں سے ہیں” اور انگلیوں کے پوروں کو دهونا ان میں سے ایک ہےمسلم:261.

هاتهوں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریںابو داؤد:142 نسائی:114,ایک چلو میں پانی لیں، آدهے سے کلی کریں اور آدها ناک میں ڈالیں بخاری:186,منہ اور ناک کے لیے علیحدہ علیحدہ پانی لینا بهی جائز ہے.التاریخ الکبیر الابن ابی خزیمة:1410,ناک میں پانی ڈالتے ہوئے مبالغہ کریں یعنی اوپر تک پانی چڑهائیں اگر روزہ ہو تو پهر مبالغہ نہ کریں
ابو داؤد:142,جب نیند سے بیدار ہونے کے بعد وضو کیا جائے تو ناک میں پانی چڑها کر تین بار ناک جهاڑنا چاہیے کیونکہ شیطان ناک کے بانسے میں رات گزارتا ہے،اس کے علاوہ ایک یا دو بار بهی جائز ہے,بخاری:3295,ناک کو بائیں ہاتھ سے جهاڑیں،یعنی صاف کری ,نسائی:91,پهر تین مرتبہ چہرہ دهوئیں,بخاری:185,پهر دایاں ہاتھ کہنی سمیت دهوئیں اسکے بعد بایاں ہاتھ کہنی سمیت دهوئیں,بخاری:186,پهر سر کا مسح کریں،اس طرح کہ دونوں هاته پانی سے تر کر کے سر کے اگلے حصے پر رکهیں اور گدی تک لے جائیں،پهر پیچهے سے آگے اسی جگہ لے آئیں جہاں سے شروع کیا تها اور یہ ایک مرتبہ کریں بخاری:185,سر کا مسح تین دفعہ کرنا بهی جائز ہے.ابوداؤد:110،107,سر کا مسح کے لیے الگ پانی لینا چاہیے.مسلم:236.

اپنی شہادت کی انگلیاں دونوں کانوں کے سوراخوں میں ڈال کر(کانوں میں بنے ہوئے راستوں میں گهمائیں، جب آخر تک پہنچ جائیں تو) کانوں کی پشت پر انگوٹهوں کے ساته مسح کرلیں.نسائی:102
سر کے مسح کے لیے گئے پانی سےکانوں کا مسح کرنا درست ہے،کیونکہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے: “کان سر کا حصہ ہیں”سنن الدارقطنی:98/1، ح:327- سلسلہ الا حادیث الصحیحة :36,بعض لوگ مکمل سر کا مسح نہیں کرتے، آدهے یا چوتهائی سر کا مسح کرتے ہیں،یہ غلط ہے،کیونکہ قران میں مکمل سر کے مسح کا ذکر ہے اور سنت سے بهی پورے سر کے مسح ثابت ہے.وضو میں گردن کا مسح جائز نہیں کیونکہ اس کے متعلق روایات موضوع ہیں.امام ابن قیم فرماتے ہیں: ” گردن کے مسح کے بارے میں قطعا کوئی صحیح حدیث نہیں ہے”زاد المعاد:195/1,پاؤں ٹخنوں سمیت دهوئیں
بخاری:186,بائیں ہاتھ کی چهوٹی انگلی سےپاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال کریں ,ابو داؤد:148

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: