قصہ ہارون الرشید اور بہلول دانا

کہتے هیں کۂ بہلول دانا کے زمانے میں بغداد کے بادشاه ہارون رشيد کی دلی تمنا تھی کۂ بہلول اس سے ملاقات کریں لیکن آپ کبھی بھی بادشاه کے دربار میں تشریف نہ لے گئے –

ایک دن یوں هوا کۂ بادشاه چھت پر بیٹھا تھا کۂ اس نے بہلول دانا کو شاهی محل کے قریب سے گزرتے دیکھا . فورا حکم دیا کۂ انکو کمند ڈال کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے . چنانچہ ایسا هی کیا گیا .جب آپ بادشاه کے سامنے پہنچے تو بادشاه نے پوچھا یه فرمائیے آپ الله تک کیسے پہنچے ؟فرمایا : جس طرح آپ تک پہنچا .بادشاه نے عرض کی ” میں سمجھا نہیں”فرمایا ، اے بادشاه ! اگر میں خود آپ تک پہنچنا چاهتا تو نہا دھو کر ، لباس _ فاخره پہن کر ، دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل هوتا . پھر عرضی پیش کرتا ، پھر گھنٹوں انتظار کرتا ، پهر بھی ممکن تھا کۂ آپ میری درخواست رد کر دیتے .لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاها تو محض کچھ لمحوں میں هی اپنے سامنے بلا لیا – اسی طرح جب الله کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی هے تو اسے لمحوں میں قرب کی وه منزلیں طے کروا دی جاتی هیں جو بڑے بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی هیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: