میاں بیوی کے روحانی تعلق کی کچھ عادتیں

یہ یقین رکھیں کہ جس طرح زندگی کے اور بہت سے پہلوؤں میں کوششوں سے مسائل حل ہو جاتے ہیں، اور معاملات بہتر ہو جاتے ہیں، اسی طرح گھریلو اور ازدواجی تعلقات میں بھی کوششوں سے معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔

شادی ایک روحانی تعلق ہے، اور اسے روحانی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اپنا تمام تر تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کریں، اور اسی سے اپنی ضرورتیں بیان کریں، اور اسے ہی اپنا حقیقی حاجت روا مانیں، اور اسی سے اپنی مشکلات کا تذکرہ کریں۔ اگر ایک دوسرے سے کوئی شکائت ہو، تو اسے بھی اللہ تعالیٰ سے بیان کریں، اور ایک دوسرے کو اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش نہ کریں۔ایک دوسرے سے مل کر نفل نمازوں کا اہتمام کریں۔ ایک دوسرے کو تلاوتیں سنائیں۔ ایک دوسرے سے حفظ کردہ سورتیں سنیں۔ اکٹھے بیٹھ کر قرآن شریف لکھیں۔ نمازوں، تلاوتوں اور دین کی دوسری باتوں کو شئیر کرنا معمول بنائیں۔ ان کی خوبصورتی اور خوشی کے حوالے سے اپنے اپنے احساسات اور جذبات شئیر کریں۔ ایک دوسرے کی دینی کوششوں کی حوصلہ افزائی کریں، انہیں اپنی کوششوں پر ترجیح دیں، اور ان میں کسی قسم کا کوئی عیب مت نکالیں۔ ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی پسند خیال کریں، اور جو جیسا بھی ہے، اسے اسی طرح قبول کرنے کی کوشش کریں۔ ایک دوسرے میں کسی بھی قسم کا کوئی نقص نکالنے کی ناشکری مت کریں۔ ایک دوسرے کو اللہ تعالیٰ کا انعام اور نعمت خیال کریں۔

اپنے اپنے فرائض ادا کریں، لیکن ایک دوسرے پر کسی قسم کے حق کا دعویٰ نہ کریں۔ ایک دوسرے پر کسی قسم کا کوئی حق نہ جتائیں۔ ایک دوسرے کے کام میں کوئی نقص نہ نکالیں۔دینی معاملات کے علاوہ ایک دوسرے کو کسی بھی حوالے سے بہتر بنانے کی کوشش نہ کریں، اور وہ بھی جب تک کہ دوسرا خود نہ کہے۔ ایک دوسرے کے دین کو بہتر بنانے میں ایک دوسرے کی مدد ضرور کریں، لیکن ایک دوسرے پر برتری ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ایک دوسرے کے معلم اور متعلم بنیں، اور ایک دوسرے سے دینی باتیں سیکھنے میں شرم محسوس نہ کریں۔ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں، اور ایک دوسرے کے لئے دعا کریں۔ ایک دوسرے کی خدمت اور خوشی کو ترجیح دیں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کا دینی تعلق ہی آپ کا اصل تعلق ہے۔ایک دوسرے پر ترس کھائیں، ایک دوسرے سے کراہت محسوس نہ کریں۔ ایک ہی برتن میں نہ سہی، لیکن ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت پر کھانا ضرور کھائیں۔اگر شوہر کے پاس وقت ہو تو بیوی کا ہاتھ بٹائے۔ گھر کے چھوٹے موٹے کام جو وقت نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی ہو رہے ہوتے ہیں، انہیں مکمل کرنے کی لسٹ تیار رکھے۔ بیوی بھی اگر شوہر کے کسی کام میں مدد کر سکتی ہو تو ضرور کرے۔

شوہر بیوی بچوں کے ساتھ کسی تفریح یا کھیل کا انتظام ضرور کرے، جو سارے مل کر کھیلیں۔ اسی طرح ہنسنے ہنسانے کی بھی حوصلہ شکنی نہیں ہونی چاہئے۔ ایک دوسرے کی خوشیوں کا بھی خیال رکھا جائے، اور ایک دوسرے کی خوشی اور ضرورت کو ذاتی خوشی اور ضرورت پر ترجیح دی .اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا اور روحانی قسم کا تعلق قائم کرنے کی خوش نصیبی عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: