بیٹے کی تربیت

بحیثیت والدہ اپنے بیٹے کی ہر ایک ایکٹیویٹی کے بارے بچے کے والد کو آگاہ کرنا آپ کیلئے لازم ہے۔ دو دن پہلے ایک دوست نے اپنے بیٹے کی زندگی اور عادات کے بارے گفتگو کرتے ہوئے بتایا” میری بیوی نے بیٹے کو موبائل فون لے کر دے دیا اور مجھے خبر تک نہیں کی، مجھ سے پوچھا تک نہیں۔

کچھ دن بعد پتا لگا تو انہوں نے اپنے بیٹے کا موبائل فون چیک کیا۔ سیل فون میں سارا فحش مواد سرچ کر کے دیکھا گیا تھا۔بیٹے کو پیٹرول سونگھنے کی عادت لگی اور وہ بھی پختگی اختیار کر گئی۔ ایک سال میں ہی بیٹے کی آنکھوں اور چہرے کی حالت بدل گئی۔ ایک سال پہلے کی تصویر میں ایک معصوم اور خوب صورت چہرہ تھا جبکہ ایک سال بعد والی تصویر میں سات سال بعد والے تاثرات تھے۔ بال بڑے، آنکھیں سرخ، جسم سست اور باپ اپنے بیٹے کی اس تصویر کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔بیٹے کا معاملہ بہت مختلف ہے۔ بیٹے کی تربیت میں سب سے اہم کردار والد کا ہوتا ہے۔ ایک ماں جتنی مرضی کوشش اور جدوجہد کر لے مگر وہ بیٹے کی تربیت اس انداز سے نہیں کر سکتی جیسے ایک والد کر سکتا ہے۔ بیٹا کہاں جاتا ہے؟ کس سے ملتا ہے؟ اپنا زیادہ وقت کن لوگوں کے ساتھ گزارتا ہے؟ اس کی عادات؟ اس کی ایکٹیویٹیز۔ یہ سب جاننے کیلئے گھر سے باہر نکلنا اور گہری نظر رکھنا ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ ماں اس سب کیلئے بیٹے کے پیچھے جگہ جگہ نہیں جا سکتی، اگر آپ والد ہیں تو یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں۔

اگر آپ والدہ ہیں تو کم از کم بچے کے والد کو آگاہ ضرور کریں ورنہ اس طرح والد کی نظروں میں دھول جھونک کر آپ بچے کو غلط سمت دیتی ہیں۔
بیٹی کی تربیت میں سب سے اہم کردار والدہ کا ہوتا ہے۔ یہاں ایک ماں کو نظر رکھنی پڑتی ہے۔ ماں وہ ہے جو بیٹی کی آنکھوں اور باتوں سے انداز سمجھ جائے اور چلنے والے معاملات کو پرکھ لے۔ میاں بیوی کے درمیان بچوں کو لے کر کمیونیکیشن ہونی چاہیے۔ اگر آپ اچھے میاں بیوی ہی نہیں ہیں تو معذرت کے ساتھ آپ اچھے والدین کبھی نہیں بن سکتے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: