یقیناً اللہ نہایت رحمٰن و رحیم ہے

ایک بادشاہ کے دو بیٹے تھے۔ بادشاہ بڑا نیک تھا،
جو بڑا بیٹا تھا اس نے کہا کہ میرے حصے کا پیسہ مجھے دے دو .

میں تو یہاں رہنا نہیں چاہتا گھبرا گیا ہوں ، دنیا کی سیر کروں گا,بادشاہ نے اس کو پیسہ دے دیا اور رخصت کر دیا، وہ پیسے لے کے چلا گیا۔ چھوٹے نے کہا میں ابا حضور کے پاس ہی رہوں گا،وہ جو پیسہ لے جانے والا ہے کچھ عرصہ کے بعد اس نے پیسہ ضائع کر دیا ، پردیس میں بڑی تکلیف ہوئی حتیٰ کہ زمین پر جانوروں کے ساتھ لیٹنا پڑ گیا اور جنگلی بُوٹیاں کھاتا رہا۔ ایک دن زمین پر سویا ہوا تھا تو اس نے سوچا کہ میں نے غلطی کی تھی اور باپ کے حضور میں گستاخی کی تھی ، لیکن کوئی بات نہیں ہے ، شائد معاف ہی کر دے ، شاید اس کے دل رحم آ جائے۔ اس طرح وہ نیت کر کے واپس چلا ۔ باپ کو جب پتہ چلا کہ بیٹا شہر میں آنے والا ہے تو اس نے گھی کے چراغ جلائے اور استقبال کی تیاریاں کیں۔ بیٹے کا استقبال ہوا اور بڑا استقبال ہوا ، کئی بَچھڑے ذبح کئے اور بڑا انتظام کیا۔ وہ جو چھوٹا بیٹا تھا اس نے کہا کہ ابا حضور یہ تو پیسے لے کے ضائع کر آیا ہے اور پھر استقبال بھی اُسی کا ہو رہا ہے ، میں آپ کے ساتھ رہا عبادتیں کرتا رہا ، خدمت کرتا رہا مگر میرے لئے تو آپ نے مرغی بھی ذبح نہیں کی اور اس کے لئے بڑے بڑے بَیل بچھڑے ذبح کر دیئے۔

اس نے کہا بیٹا بات یہ ہے کہ تو گمراہی کا راز نہیں جانتا ، تو ایک راستہ جانتا ہے اور وہ نیک راہ ہے ۔ جو گمراہی سے واپس آیا ہے وہ مجھے زیادہ پیارا ہے۔ تو وہ آدمی جو اس جگہ سے آیا ہے جہاں سے آنا ممکن نہیں تھا۔اس کو اللہ واپسی کی اجازت دیتا ہے اور تم تو اچھے نصیب میں پیدا ہوئے ، عبادت کرتے گئے ، تمہیں کیا پتہ گناہ کیا ہوتا ہے۔ گناہ کی دنیا سے مڑ کے آنے والا اللہ کے یہاں زیادہ قابلِ عزت ہے کیونکہ وہ اس جگہ سے مڑ آیا ہے جہاں سے مڑنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے لئے زیادہ استقبال ہوا کرتا ہے۔ تو گناہ جتنا بھی ہو واپسی کے لئے پراوہ نہ کیا کرو ۔ سیدھا اللہ کے حضور سجدے میں جاؤ تو اللہ معاف کر دیتا ہے۔(گفتگو والیم 8 ۔ صفحہ نمبر 243)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: