سچی توبہ

توبہ کے چند ایمان افروز واقعات پہلا واقعہ گزشتہ امت مسلمہ يعنی بنی اسرائیل کے ایک نوجوان کا ہے جو کہ بڑا نافرمان تھا۔ اتنا کہ شہر والوں نے بیزار ہو کر اسے شہر بدر کر دیا۔ چلتے چلتے وہ ایک ویرانے میں جا پہنچا ۔ حالات کی تنگی اس پر آپڑی .

کھانا پینا ختم ہوا ۔ پھر بیماری نے آليا . یہاں تک کہ مرض الموت میں گرفتار ہوا۔ ایسے میں اس نے اللہ کو پکارا : اے وہ ذات جو معاف کرے تو گھلتا نہیں اور عذاب دے تو بڑھتا نہیں، اے اللہ ! اگر مجھے معاف کرنے لنتے تيرے ملک میں کوئی کمی آتی ہو یا مجھے عذاب دینے سے تیری سلطنت میں اضافہ ہو تو پھر میرا کوئی سوال نہیں۔ اے میرے رب ساری عمر تیری نافرمانی میں کٹ گئی آج تک کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ اے میرے رب میرا آج کوئی سنگی ساتھی نہیں رہا، میرا آج تیرے سوا کوئی سہارا نہیں رہا۔ سب ناتے رشتے ٹوٹ گئے۔ آج میرے جسم نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ تو مجھے اکیلا نہ چھوڑ۔ تو مجھے معاف فرما دے..اے میرے اب مجھے معاف فرما دے کہ میں نے تیرے بارے میں سنا ہے کہ تو غفور الرحيم ہے۔ اسی حال میں اس کی جان نکل گئی۔ موسی علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی : اے موسی ! میرا ایک دوست فلاں جنگل میں مر گیا ہے اس کے غسل کا انتظام کرو۔ اس کا جنازہ پڑھواور لوگوں میں اعلان کردو کہ آج جو شخص اس کا جنازہ پڑھے گا اس کی بخشش کر دی جائے گی ۔ چناچہ موسی علیہ السلام نے اعلان کروا دیا۔ لوگ بھاگے جنگل کی طرف کہ دیکھیں کون اللہ کا دوست مر گیا۔

وہاں پہنچے تو دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے جسے لوگوں نے شہر سے نکال دیا تھا ۔ وہ موسی علیہ السلام سے کہنے لگے اے موسی علیہ السلام یہ تو بہت گناہ گار شخص تھا ۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا دوست ہے ؟ موسی علیہ السلام نے اللہ نے دریافت کیا : اے اللہ ! یہ تو گناہ گار شخص تھا ہماری نظر میں ۔ آخر اس میں ایسی کون سی بات تھی کہ یہ تیرا دوست بن گیا !! اللہ تعالی نے فرمایا اے موسی ! یہ واقعی ایسا ہی تھا جیسا آپ لوگ کہہ رہے ہیں۔ میں نے اسے دیکھا کہ یہ ذلیل ہو کر، فقير ہو کر تنہاہی میں مر رہا ہے ۔ آج اس کا کوئی دوست یار نہیں تھا۔ کوئی اس کی پکار سننے والا تھا نہ ہی اس کی پکار کا جواب دینے والا.. پھر اس نے مجھے پکارا ۔ تم ہی بتاؤ کہ کیا میری غیرت یہ گوارا کر سکتی تھی کہ میں بھی الت کی کار کو نہ سنوں؟ مجھے میری عزت کی قسم ! اگر وہ اس وقت پوری انسانیت کی بخشش کی دعا مانگتا تو میں سب کو معاف فرما دیتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: