مضبوط لوگ حساس نہیں ہوتے

میں نے کافی لوگوں کو, دوسروں کے ساتھ یہ جملہ بولتے ہوئے سنا ہے اور ایسے بات ختم کرتے ہوے بھی دیکھا ہے، جیسے کہ تم بہت مضبوط ہو ،تمہارے لئے کیا مشکل ہے ,میں تمہاری طرح مضبوط نہیں ہوں .

میرا دل بہت کمزور ہے ،تمہاری طرح نہیں.”میرا دل بہت حساس ہے بہت جلدی ٹوٹ جاتا ہے “. مجھ سے بار بار لوگوں کے ہاتھوں خود کو توڑا نہیں جاتا “یہ جملے لکھ کر نہ ہی تو میں نے کسی پر تنقید کرنی ہے اور نہ ہی کسی کی حمایت !میں صرف ایک بات واضح کرنا چاہتی ہوں یوں کہہ لیں کہ ایک “غلط فہمی “دور کرنا چاہتی ہوں ۔۔اور وه یہ کہ یہ بات کہنا سراسر غلط ہے کہ مضبوط لوگ حساس نہیں ہوتے. جی ہاں !یہ بات اپنے ذہنوں سے نکال دیں کہ جن لوگوں کو آپ مضبوطی کا میڈل پہناتے ہیں ان میں حساسیت نہیں ہوتی ! *بلکہ میرے مطابق بظاھر “مضبوط “انسان حساسیت کے مرحلوں سے گزر گزر کر ہی بنتا ہے،* جیسے سونا بننے کی مثال ہی لے لیں (اختلاف بھی کر سکتے ہیں)۔۔آسان انکے لئے بھی نہیں ہوتا ۔۔کسی کی تکلیف یا دکھ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا ۔۔اذیت سے سب گزرتے ہیں ۔۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ مضبوط لوگوں کو تو اذیت ہوتی ہی نہیں یا انکو تو کسی کی بات بری لگتی ہی نہیں یا یہ کہ انکے لئے تو کوئی مشکل ہے ہی نہیں* ! تو معذرت کے ساتھ یہاں آپ غلط ہیں ۔۔میں صرف چاہتی ہوں کہ ہم لوگ اپنے تیی خود اس چیز کو realize کریں کہ کہیں ہم بھی ان لوگوں میں شامل تو نہیں ؟

یہ سب کہہ کر کہ میں تو بڑی” حساس” اور سامنے والا تو مضبوط “پتھر دل ” خود کو بری از ذمہ تو قرار نہیں دے دیتی ؟؟چھوڑ دیں دوسروں کے معاملات کو معمولی اور اپنے معاملات کو بڑا سمجھنا ۔۔ٹھیک ہے آپ کسی کو اچھی نیت اور اچھے انداز میں تھپکی ضرور دے سکتے ہیں کہ “ان شاءاللہ‎ تم کر سکتی ہو” لیکن یہ کیا کہ آپ طنزیہ انداز میں کہہ رہے ہوں جیسے کسی کا مضبوط ہونا اسکے سخت دل کی علامت ہے ؟؟ یہ نا قابل برداشت اپروچ ہے کسی کے لئے بھی ۔۔اور ہاں عین ممکن ہے کہ کبھی میرا اپنا یہ رویہ رہا ہو لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ انسان کے آس پاس بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے ،اہم یہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے، زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ نے اس میں سے اپنے لئے آخرکار “کیا چنا ؟آپکا اپنا انتخاب کیا تھا، کیا ہے ؟؟ مسلے کو حل کرنے کے لئے پہلے اسکو جاننا ضروری ہے۔یہاں بات یہ نہیں ہو رہی کہ مضبوطی کیا ہے یا کم یا زیادہ پر بات نہیں ہو رہی _ بات ایک “غلط فہمی “پر ہو رہی ہے. اس وقت جو ہم سب نے عمومی طور پر اپنے اپنے ذہنوں میں پال رکھی ہے ۔ آخر میں ایک بات ضرور کہوں گی اپنے تجربے کی بناء پر کہ قرآن انسان کو مضبوطی عطا کرتا ہے اور مضبوط لوگ بھی حساس ہوتے ہیں . دل کی سختی سے اسکا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی معصومیت سے، ایسے مت کہا کریں ۔۔(مسکراہٹ )اللہ‎ سے دعا ہے کہ وه ہمیں ہماری غلط فہمیوں کو دور کرنے کی توفیق عطا فرمائے “خوش رہیں، خوش رکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: