دعاؤں کے عجیب مضامین

دعاؤں کے ایسے مضامین جنھیں پڑھ کر اللہ کی رحمت پر بے ساختہ پیار آیات. چند بزرگ ہستیوں کی اللہ سے مانگی گئیں دعاؤں کے احوال.. ضرور پڑھیں.

حضرت تھانوی رحمہ اللّٰـــــہ نے دعا کی کہ یا مالک ہم سے تو گناہ نہیں چھوٹتے، آپ اپنی رحمت کو ہم پر بند مت کیجئے گا۔حضرت اقدس حکیم اختر صاحب رحمہ اللّٰـــــہ فرماتے۔۔کہ یا اللّٰـــــہ تعالٰی اختر آپ کے پاس آپ کی رحمت کا آسرا لے کر آئے گا..حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اپنی دعاؤں میں اکثر فرماتے ہیں کہ یا اللّٰـــــہ ہم اس قابل تو نہیں کہ آپ سے جنت کے بڑے درجات کا مطالبہ کریں البتہ یہ فریاد ضرور کرتے ہیں کہ مہربانی فرما کر قیامت کے دن اپنے بخشش کئے ہوئے گناہ گار بندوں کی قطار میں شامل فرما دینا.حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم دعا فرماتے ہیں کہ یا اللّٰـــــہ یا تو مجھے توفیق دے دیجئیے یا میری آخرت میں پکڑ نہ کیجئیے گا۔ میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ یا اللّٰـــــہ تعالٰی ، تو نے آخرت میں جتنے سوال مجھ سے کرنے ہیں میں ان سب کا جواب ابھی سے دیتا ہوں کہ میرے پاس جواب دینے کو کچھ نہیں ہے.ایک اور بزرگ فرماتے ہیں کہ قیامت کہ دن جب اللّٰـــــہ مجھ سے پوچھے گا کہ میرے بندے کیا لایا ہے؟ تو میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی اللّٰـــــہ میاں کے سامنے رکھ دوں گا کہ یا اللّٰـــــہ یہ لایا ہوں!

اور دنیا میں سنا تھا کہ آپ کریم ہیں (یعنی نالائقوں پر بھی اپنا فضل فرماتے ہیں). تو بس مجھے بخش دیجئیے.اے اللّٰـــــہ بڑے تو یہ نہیں پوچھتے کہ کیا لائے ہو، بلکہ بڑے تو یہ پوچھتے ہیں کہ کیا لینے آئے ہو؟اے خدائے باوفا و با عطا … رحم کن بر عمرِ رفتہ بر جفا,مجھ سے فسق و سرکشی ہوتی رہی…تجھ سے بندا پروری ہوتی رہی

اپنی عطا کی بارشیں کر دے میرے کریم..
.آیا ہوں تیرے در پہ ہجوم خطاء کے ساتھب

بندہ نواز میری مِنّت کی لاج رکھ لے …
میری نہیں تو اپنی رحمت کی لاج رکھ لے

دیکھ کر اپنے ضعف کو اور قصور بندگی…
آہ و فغاں کا آسرا لیتی ہے جان ناتواں

کچھ کرم تو نقد فرما دیجئیے …
بعد مرنے کے نہ وعدہ کیجئیے۔

یا اللّٰـــــہ ہم تو آپ کو خوش نہ کر سکے، لیکن آپ ہمیں خوش کر دیجئیے.یا اللّٰـــــہ میں نا لائق ھوں، نالائقی کی انتہا کر دی…تو بھی اپنا کرم بے انتہا کردے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں یا اللّٰـــــہ ہم نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ بچہ مچھلی مانگنے اور باپ اس کے ہاتھ میں سانپ پکڑا دے، اور بچہ گڑ کی ڈلی مانگے تو باپ پتھر کا روڑا ہاتھ میں پکڑا دے۔ تو اے اللّٰـــــہ ہم بھی آپ سے بخشش کا سوال کرتے ہیں، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ بندے تو آپ سے بخشش مانگیں اور آپ انہیں جہنم میں ڈال دیں۔اے اللّٰـــــہ آپ بڑے ہیں بڑوں کا ظرف بڑا ہوتا ہے۔ ہم تو نا لائق ہیں سو نالائقی ہی کی، لیکن آپ وہ کیجئے جو آپ کی شان کے لائق ہے۔

ایک دیہاتی نے روضئہ مبارک پر دعا کی کہ یا اللّٰـــــہ اگر آپ مجھے معاف کر دیں تو آپ کے نبی صلی اللّٰـــــہ علیہ وسلم خوش ہو جائیں گے، اور اگر مجھے معاف نہ کیا تو آپ کا دشمن شیطان خوش ہو گا، تو اے اللّٰـــــہ اب آپ خود دیکھ لیجئے۔ مجھے معاف کر کے اپنے محبوب کو خوش کر دیجئیے اور شیطان کو خوش ہونے کا موقع مت دیجئے۔حضرت جی دامت برکاتہم اپنی دعا میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ اے اللّٰـــــہ آپ نے قرآن پاک میں ہم کمزوروں کو حکم دیا *وامٌَّا السَّائلَ فَلا تَنهَر* کہ تم سائل کو جھڑکی نہ دیا کرو، تو اے کریم پروردگار ہم بھی تو آپ کے در کے سائل ہیں،آپ بھی ہمیں خالی ہاتھ نہ لوٹائیے اپنی رحیمی اور کریمی کا صدقہ مرحمت فرما دیجئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: