یہ نُورِ مُحمّدی ( صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ) ہے

حضرت داؤد علیہ السّلام نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کی: ” اے اللّٰه میں جب زبُور کی تلاوت کرتا ہوں تو مجھے ایک نُور نظر آتا ہے میرا محراب خوشی سے جھومنے لگتا ہے اور میرا قلب و جِگر اِنتہائی راحت محسوس کرتا ہے میرا حُجرہ منوّر ہو جاتا ہے۔”

یااللّٰه وہ نُور کیسا ہے؟ فرمایا گیا: ” یہ نُورِ مُحمّدی ( صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم ) ہے، میں نے اسی نُور کے طفیل دُنیا، آخرت، آدم، حوّا، جنّت اور دوزخ کو پیدا فرمایا ۔ ” حضرت داؤد علیہ السّلام نے بُلند آواز سے نامِ مُحمّد صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم لیا تو پرندے، جنگلی وحشی جانور، کوہ و دشتِ، بیاباں اور صحرا سے ایک گونج آئی کہ صدقت یا داؤد ( یعنی اے داؤد علیہ السّلام آپ نے صحیح کہا )۔
اسی مضمون کو کلامِ اِلٰہی سے بیان کِیا۔

” وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ اَوَّبِىْ مَعَهٝ وَالطَّيْرَ ”

” بے شک ہم نے داؤد ( علیہ السّلام ) کو اپنی طرف سے بُزُرگی دی تھی، اے پہاڑو ان کی تسبیح کی آواز کا جواب دیا کرو اور پرندوں کو تابع کر دیا تھا۔ ” ( سورۃ سبا، آیت: ۱۰ )
اس دِن کے بعد حضرت داود جب کبھی زبُور کی تلاوت فرمانے لگتے تو ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ” پڑھ لیتے۔

( معارجُ النّبوّت، جِلد: ۲، صفحہ: ۳۶ )

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: