حضور کے شیدائی

سہیل بن عمر حدیبیہ میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کی شرائط طے کرنے کے لیے آئے تھے۔ حضور صلی اللہ عليہ وسلم کے دشمن، بلکہ اسلام کے دشمن۔ رویہ میں خاصی لختی تھی۔

معاہدہ جب لکھا جانے لگا تو(بسم اللہ الرحمن الرحيم) پر جھگڑا کھڑا کر دیا۔ پھر (محمد رسول الله) لکھنے پر جھگڑا۔ پھر اپنے لڑکے ابو جندل رضی اللہ عنہ کے واپس لوٹانے پر تنازع کھڑا کر دیا۔ سرکار دوعالم صلی اللہ عليہ وسلم اس کی ہر بات مانتے رہے ۔ یہاں تک کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زج گئے کہ آپ نے جھک کر ان لوگوں کی شرائط کیوں مان رہے ہیں ۔ اليكن نگاه نبوت بڑی دور تھی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نگاہیں وہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھیں ۔ سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلام میں کوئی فتح حدیبیہ کی فتح سے بڑھ کر نہیں ہوئی۔ لوگ جلد بازی کرتے ہیں لیکن اللہ تعالی بندوں کی طرح جلد بازی نہیں کرتا ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حجة الوداع میں آپ کے قربانی کے اونٹ یکے بعد دیگرے خود آگے بڑھ رہے تھے۔ ہر ایک اونٹ یہ چاہتا تھا کہ پہلے مجھے قربان کیا جائے ۔ سہیل بن عمر رضی اللہ عنہ بھی یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے دیکھا کہ اونٹوں کی قربانی کے بعد اللہ کے رسول نے حجام بلايا اور اپنا سر منڈایا ۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (یہی) سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ آپ کا ایک ایک بال چلتے ہیں اور اس کو اپنی آنکھوں سے لگاتے ہیں۔ سہیل رضی اللہ عنہ کے دل میں اس منظر کو دیکھ کر کہ اونٹ آپ کی چھری کے سامنے سر جھکا رہے ہیں، آپ نے ایک خاص عقيدت ہو گئی. اسلام کی محبت دل کی اتھاہ گہرائیوں میں گھر کر گئی۔ قلب و ذہن بدل گیا ۔ دشمنی محبت میں تبدیل ہو گئی۔ اس کا اثر تھا کہ اب ایک ایک بال کو چن چن کر آنکھوں سے لگایا جا رہا تھا۔ جس کا چہرہ دیکھنے کے روادار نہیں تھے، اب اس کے بالوں کو آنکھوں سے لگایا جا رہا ہے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کی اس عقيدت کو دیکھ کر التوجتا جاتا تھا کہ یہ وہی سہيل رضی اللہ عنہ ہیں جو حدیبیہ کی صلح کے موقع پر الت قدر بگڑے تھے کہ بسم اللہ نہ لکھا جائے ۔ اور محمد بن عبداللہ لکھا جائے، محمد رسول اللہ نہ لکھا جائے ۔ اس وقت اپنے بیٹے ابو جندل کو زنجیروں میں جکڑا کیوں کہ وہ حضور کا شیدائی تھا ۔ اب خود اس کے اسیر ہو گئے ۔ یہ دیکھ کر فرمایا:تعریف اس خدا کی جس نے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اسلام کی ہدایت دیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: