درس حیات

ایک شہزادہ اپنے اُستاد مُحترم سے سبق پڑھ رہا تھا.. اُستاد مُحترم نے اُسے دو جُملے پڑھائے..
1 ــ جُھوٹ مت بُولو
2 ــ غُصّہ نہ کرو

کُچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سُنانے کو کہا گیا تو شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا,دوسرے دن پھر اُستاد مُحترم نے سبق سنانے کو کہا.. شہزادے نے پھر عرض کیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..تیسرے دن چُھٹی تھی.. اُستاد نے کہا کہ کل چُھٹی ھے لہذا کل لازمی سبق یاد کر لینا.. بعد میں میں کوئی بہانہ نہیں سُنوں گا..
چُھٹی کے بعد اگلے دن بھی شاگرد خاص سبق سُنانے میں ناکام رہا.. اُستاد مُحترم یہ خیال کیے بغیر کہ شاگرد ایک شہزادہ ھے ‘ طیش میں آکر ایک تھپڑ رسید کردیا کہ یہ بھی کوئی بات ھے کہ اتنے دنُوں سے دو جُملے یاد نہیں ھوکر دے رہے..تھپڑ کھاکر ایک دفعہ تو شہزادہ گم سُم ھوگیا.. پھر بُولا کہ اُستاد مُحترم ! سبق یاد ھوگیا.. اُستاد کو بہت تعجب ھوا کہ پہلے تو سبق یاد نہیں ھورہا تھا اُور تھپڑ کھاتے ہی فوری سبق یاد ھوگیا..شہزادہ عرض کرنے لگا کہ اُستاد مُحترم ! آپ نے مُجھے دو باتیں پڑھائی تھیں..
1 ـ جُھوٹ نہ بُولو..
2 ـ غُصّہ نہ کرو..
جُھوٹ بُولنے سے تو میں نے اُسی دن توبہ کرلی تھی لیکـن غُصّہ نہ کرو ‘ یہ مُشکل کام تھا.. بہت کوشش کرتا تھا کہ غُصّہ نہ آئے لیکـن غُصّہ آجاتا تھا.. اب جب تک میں غُصّے پر قابُو پانا نہیں سیکھ جاتا تو کیسے کہہ دیتا کہ سبق یاد ھوگیا..؟؟؟ آج جب آپ نے تھپڑ مارا اُور یہ تھپڑ بھی میری زندگی کا پہلا تھپڑ ھے .

اسی وقت میں نے اپنے دل و دماغ میں غُور کیا کہ غُصّہ آیا کہ نہیں..؟؟؟ غُور کرنے پر مُجھے محسُوس ھوا کہ غُصّہ نہیں آیا..آج میں آپ کا بتایا ھوا دُوسرا سبق کہ “غُصّہ نہ کرو” بلکل سیکھ لیا ھے.. آج اللہ کے فضل سے مُجھے مُکمل سبق یاد ھوگیا ھـے.. .. ..!!!!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
درس حیات !!!
اے عزیز ــ ہمیں بھی چاہیئے کہ جو قُول زریں ہم لکھتے ‘ پڑھتے اُور سُنتے رہتے ھیں ان پر عمل کریں.. عمل ہی سے انسان کی اصلاح ھوتی ھے اور
عمل ہی سے زندگی بنتی ھے________!!!!
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ھے نہ ناری ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: