سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد نبوی شریف سے متصل غربی جانب ہوا کرتا تھا جس کا دروازہ مسجد نبوی شریف کی جانب کھلتا تھا .

ابتدا میں تقر یبا تمام اصحابہ اکرام رضوان اللہ اجمعین کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی شریف کی جانب کھلتے تھے.ظاہری وصال سے چند روز قبل آپ سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر پر جلواہ افروز ہو کر آخری وعظ فرمایا اس میں دیگر باتوں کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام دریچوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے دریچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حضرت ابو سعید الخدریؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا آپ میں سے اپنی جائیداد اور دوستی میں میری طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی فراخدل نہیں ہے اور اگر مجھے اپنے لیئے خلیل پسند کرنے کا اختیار دیا جائے تو میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اپنا خلیل بنانا پسند کروں گا۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر منبر کے قریب غربی جانب ہوا کرتا تھا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری ایام میں یہ گھر ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے ہاتھ ۴۰۰۰ ہزار درہم میں بیچ دیا اور ملنے والی رقم سے کچھ تو انہوں نے اپنے قرضے اتارے باقی رقم مہمان و وفود کی خاطر و مدارت میں صرف کردی
حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں جب مسجد نبوی شریف کی توسیع کی گئی تو اس گھر کو مسجد نبوی شریف میں داخل کر لیا گیا .

پھر جیسے جیسے مخلتف ادوار میں تعمیر توسیع ہوتی رہی اس دریچے کو اسی سمت میں رکھ کر آگے آگے دھکیل دیا گیا.آج بھی اسی کی یاد تازہ رکھنے کے لیئے غربی جانب کھلنے والا دروازہ باب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے اس دروازے کے اندر اوپر کی جانب خوخہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ لکھا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: