نفس و شیطان کا فریب

ہمیں ہر وقت نفس پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ نفس ایسا خبیث ہے کہ وہ گناہ کو انسان کے سامنے مزین کر دیتا ہے، اس کو اپنے گناہوں کا پتا بھی نہیں چلتا.

جبکہ دوسرے کی آنکھ کا بال بھی بہت بڑا نظر آتا ہے، خود کا حال یہ ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا. انڈین فلم ایسا حدیث ہے کہ کسی کے متعلق عیب و برائی کا صرف شک پڑ جائے تو انسان اس سے نفرت کرنے لگتا ہے، جب کہ اپنے عیوب و برائی کا یقین ہوتا ہے، لیکن پھر بھی اپنے آپ سے محبت کرتا ہے….! تو نفس پرانی پرانا پاپی ہے بڑے حیلے، بہانے جانتا ہے. ہوس چھپ چھپ کہ سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں,اسی طرح شیطان ایسا بدبخت دشمن ہے جو 24 گھنٹے انسان کے پیچھے لگا ہوا ہے..اللہ تعالی فرماتے ہیں -ترجمہ_:اور ہم نے دنیا میں ان پر کچھ ساتھی مسلط کر دیے تھے جنہوں نے ان کے آگے پیچھے کے سارے کاموں کو خوشنما بنا دیا تھا. چنانچہ جو دوسرے جنات اور انسان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے ساتھ مل کر عذاب کی بات ان پر بھی سچی ہوئی. یقیناً وہ سب خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں”_تو شیطان انسان کے سامنے برے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا ہے، لہذا انسان گناہ کرتا ہے، جبکہ وہ اس کو گناہ نہیں سمجھتا، اور اگر سمجھتا بھی ہے تو ہلکا سمجھتا ہے، اور اپنے من میں کہتا ہے: بس ایک دفعہ اور آخری دفعہ گناہ کر لیتا ہوں. حالانکہ ایک دفعہ اور آخری دفعہ میں شیطان کتنے لوگوں کو گناہوں کا مرتکب بنا دیتا ہے.

ایک طرف ہم مراقبہ بھی کرتے ہیں، تہجد کی پابندی کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، تکبیر اولی کے لئے بھی دوڑتے ہیں، دوسری طرف ہماری نگاہیں بھی پاک نہیں، زبان محفوظ نہیں نہیں بلکہ ایسے دلخراش الفاظ زبان سے نکالتے ہیں کہ لوگوں کو ایذا پہنچتی ہے. تو یہ ہماری بےاحتیاطی ہمارے راستے کی رکاوٹ ہے. یوں سمجھئے کہ ہم اللہ رب العزت کی طرف جا رہے ہیں مگر یہ گناہ رسی ہے، جو ہمیں پیچھے کھینچتی ہے اور آگے بڑھنے نہیں دیتی، لہذا ہم ان گناہوں کی عادت کو چھوڑے بغیر اللہ رب العزت کے ساتھ واصل نہیں ہو سکتے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: