طوفان نوح کا عجیب واقعہ

علماء نے لکھا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو اس دن اگر اللہ رحم کرتا کسی پرتو ایک عورت پر رحم کرتا جس کا معصوم بچہ گود میں تھا…. اور وہ بے قرار ہو کر بھاگ رہی تھی، کہ مجھے پناہ مل جائے.

پانی کی طوفانی موجوں دائیں بائیں سے گزر رہی ہیں. وہ بھاگ رہی ہے بس ایک ٹیلے پر چلتی ہے، پھر اس سے اونچے پر، پھر اس سے اونچے پر، پھر جو اس کے شہر میں سب سے اونچا پہاڑ تھا.اس کی چوٹی پر جا کر کھڑی ہو گئی اور بچے کو گود میں لے لیا. پانی سانپ کی طرح پھنکارتا ہوا چلا آ رہا ہے اور اس کے سامنے لوگ تنکے کی طرح بہتے چلے آرہے ہیں پھر پانی نے آکر اس چوٹی کو بھی پکڑ لیا اور ماں کے پاؤں سے پکڑااور کوئی جگہ نہیں جہاں جا سکے.وہ سب سے اچھی جگہ ہے، جہاں وہ کھڑی ہے پانی اوپر اٹھنا شروع ہوا، اور وہ بے قرار ہے… کہ میں بچ جاؤ لیکن جب پانی اس کی کمر تک آیا تو اس نے بچے کو اوپر کرلیا.جب پانی چھاتی تک آیا تو اس نے بچے کو اور اوپر کر لیا.جب پانی اس کے گردن تک آیاتو اس نے دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھا دیا.مگر پانی نے اس بچے کو بھی اور اس کی ماں کو بھی الٹا کر کے اپنی موجوں میں غرق کر دیاوكذالك اخذ ربك اذا اخذ القرٰى وهي ظالمه… ان هذه اليم شديد…“` _ایسی ہی تیرے رب کی پکڑ ہے بڑی زبردستکہ جب وہ پکڑتا ہے تو کسی طرف سے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا.یہ تو دنیا کی پکڑ ہے اور جو قیامت کی اللہ تعالیٰ بتا رہا ہے کہ یہ جہنم کی طرف کو کھینچے چلے جا رہے ہیں.

مرد ہیں، عورتیں ہیں.ھم یسترخون فیھا_اس میں چیخ رہے ہیں,چلا رہے ہیں. ` ربنا اخرجنا نعمل صالحا غير الذی کنا نعمل“` _…. اے اللہ اب اچھے عمل کریں گے.اس سے پہلے کہ وہ وقت ہم پہ بھی آ جائے ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے معافی مانگیں اللہ سے پناہ مانگیں اپنی آخرت کی فکر کریں..

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: