دلِ داغ دار

حالانکہ جب بندہ محنت نہیں کرتا تو سمجھتا ہے کہ گناہ کو چھوڑنا آسان ہے، مگر جب چھوڑنے کی کوشش کرنے لگتا ہے تو پھر سمجھ میں آتا ہے کہ دل توداغ داغ بن چکا ہے.

کہاں کہاں اس پر مرہم رکھیں؟ اگر آپ نظر ڈالیں تو محسوس کریں گے کہ اٹھتے ہوئے گناہ، بیٹھتے ہوئے گناہ،چلتے ہوئے گناہ، لیٹتے ہوئے گناہ، ہر وقت گناہ میں مبتلا ہیں اور بسا اوقات تو شیطان گناہوں کی سوچ ذہن میں بٹھا دیتا ہے، حتٰی کہ نماز میں بھی گناہوں کی سوچ ہوتی ہے. گناہ کی اس سوچ سے چھٹکارہ پانا کیا آسان کام ہے؟نہیں….! بلکہ اس کے لیے عزم، پختہ ارادہ اور پھر گناہ کو چھوڑنے کی ہرممکن تدبیر اور کوشش کرنا، بچنے کی راہ اختیار کرنا، اس سے حفاظت کی دعا کرنا ضروری ہے، اسی کو مجاہدہ کہا گیا ہے. مجاہدہ یہ نہیں کہ روٹی کھانا چھوڑ دو. جس چیز کو اللہ نے حلال کیا اس کو کھاؤ لیکن اعتدال کے ساتھ کھاو، اور جتنا کھاؤ اس پر اللہ کے گیت گاؤ.ان تربیتی مجالس میں آنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ ہم یہاں آکر اللہ رب العزت سے دعا مانگیں :اے اللہ! ہمیں ان گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما دیجئے. ہمارا معاملہ تو اوپر سے *لاالہ* اور اندر سے *کالی بلا* والا ہوتا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: