اللہ سے صلح کرلو

آج ایک ایسا واقعہ آپکو بتاؤں کہ جنہوں نے نماز پڑھی اور پھر کیا ہوا ۔ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رضہ ساری زندگی حضرت نے نکاح نہیں کیا ” تیرے عشق میں یار ہم نے کیا کیا نہ کیا ۔ ” صبر ایوب کیا گِریہ یعقوب کیا .

۔نکاح نہیں کیا جوانی گزر گئ بڑھاپا آیا ۔ ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں پڑھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان جسکا مفہوم یہ ہے جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال ہے یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی اللہ کے حضور یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئ خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں پتہ مل گیا ۔ آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداللہ بن زید بصریٰ گۓ وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتاۓ بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ.

یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آۓ ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں اور قربان جاؤں حضرت ” سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے ” جب سے توں نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے ” کہا حضور لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چڑھاتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئ ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا حضور نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئ ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئ ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقع خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کسطرح بکریاں چڑھا رہی ہے .

شیروں نے اسکی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے پہلا میمونہ ولید رضہ بکریاں نہیں چڑھا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جاۓ نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پڑ بکریاں چڑھانا تو بہانہ تھا.” چل بلھیا اُتھے چلیے جتھے عقل دے سارے انھےنہ کوئی ذات پہچانے نہ کوئی سانوں منے ”
یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا لوگ یہی سمجھتے تھےمیمونہ سارا دن بکریاں چڑھاتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چڑھا رہی تھی کیا شعر ہے
ڈھونڈ پھر وہی فرصت کے رات دن کہ بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے.دل میں یاد تیری ہو اور گوشہ تنائی ہو.پھر تو خلوت میں عجب انجمنان راہی ہو
آپ فرماتے ہیں کہ ایک تو یہ حیران کر دینے والا منظر تھا تو دوسرا کیا دیکھا کہا میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چڑھا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتی کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چڑھا رہے ہیں بکریاں چڑھ رہی ہیں .

شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اسکی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا ہوں یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئ لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئ آپ فرماتے ہیں میں دھنگ حیران و پریشاں کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید رضہ نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں او عبداللہ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گۓ آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید رضہ کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولید رضہ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپکو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولید رضہ فرماتی ہیں عبداللہ جس اللہ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی اللہ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید رضہ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگاۓ گا تو کھاۓ گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید رضہ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے آپ سب لوگ بھی یار صلح کر لو صلح کر لو یار یاری لگا لو کہیں دیر نہ ہو جاے رب کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لو کتنے سال گزر گئے ہم نے کوئی اللہ کی بات مانی لیکن وہ کِھلا بھی رہا ہے پِلا بھی رہا ہے دِکھا بھی رہا ہے سُنا بھی رہا ہے سُلا بھی رہا ہے جگا بھی رہا ہے نماز پڑھو اللہ کی یاد میں زندگی بسر کرو یہی کامیابی ہے ورنہ کل بہت پچھتاوا ہو گا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: