معجزہ دکھانے یا نہ دکھانے کا اختیار.

آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے سے جس طرح ہاتھ میں پتھر کلمہ پڑھتے اور پتھروں کو زندگی اور قوتِ گویائی ملتی اُسی طرح درخت ہیں۔حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔

امام ابن حبان رضی اللہ عنہ، امام ابو یعلی رضی اللہ عنہ، امام طبرانی سب نے روایت کی ہے کہ آقا علیہ السلام کے پاس بنی عامر میں سے ایک شخص آیا۔ وہ شخص علاج معالجہ کرنے والا (حکیم) دکھائی دیتا تھا۔پس اس نے کہا : اے محمد! آپ بہت سی (نئی) چیزیں (امورِ دین میں سے) بیان کرتے ہیں۔ (پھر اس نے اَز راہِ تمسخر کہا : ) کیا آپ کو اس چیز کی حاجت ہے کہ میں آپ کا علاج کروں؟
راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اللہ تعاليٰ کے دین کی دعوت دی پھر فرمایا : کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں کوئی معجزہ دکھاؤں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجور اور کچھ اور درخت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کی ایک شاخوں والی ٹہنی کواپنی طرف بلایا۔فاأَقْبَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ يَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأسَهُ وَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأسَهُ حَتَّی انْتَهَی إِلَيْه ِ صلی الله عليه وآله وسلم فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ.”وہ ٹہنی کھجور سے جدا ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سجدہ کرتے اور سر اٹھاتے، سجدہ کرتے اور پھر سر اٹھاتے ہوئے بڑھی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب پہنچ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئی۔‘‘

پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنی جگہ واپس چلی جائے۔
یہ واقعہ دیکھ کر قبیلہ بنو عامر کے اس شخص نے کہا : خدا کی قسم! میں کبھی بھی کسی شے میں بھی آپ کی تکذیب نہیں کروں گا جو آپ فرماتے ہیں۔ پھر اس نے برملا اعلان کر کے کہا : اے آلِ عامر بن صعصعہ! اللہ کی قسم! میں انہیں (یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) آئندہ کسی چیز میں نہیں جھٹلاؤں گا۔
ابن حبان، الصحيح، 14 : 454، رقم : 6523
أبو يعلی، المسند، 4 : 237، رقم : 2350
طبراني، المعجم الکبير، 12 : 100، رقم : 12595
یہ حدیث مبارکہ ہمیں بتلاتی ہے کہ آقا علیہ السلام نے اس کی بات سن کر غصہ نہیں کیا۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے کہ اتنی بڑی بات سن کر غصہ نہیں کیا۔اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پوچھا کہ چاہو تو معجزہ بھی دکھاؤں۔ اب آقا علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ وہ صرف اِجراء نہیں ہوتا تھا دستِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، جب پوچھنا ہے چاہو تو معجزہ دکھاؤں۔یہ معجزہ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منشاء پر منحصر تھا۔ یہ آقا علیہ السلام کی یہ پہچان تھی۔ اور یہی حکم اب امت کو دیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: