اپنا کون؟

ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے آگ پر پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اس کو کھائیں,اس کا بھائی باہر گیا اور پکار کر کہا.

اے لوگو!! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے.کچھ ہی دیر میں لوگوں کا ایک مجمع نکلا اور باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ نہ سنا ہو..وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہوکر کھایا پیا..
تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا :یہ جو لوگ آئے تھے میں تو انہیں نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟بھائی نے جواب دیا کہ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد کو آئے تھے ناں کہ ولیمہ کی دعوت میں.اس لیے یہی لوگ مہمانی اور مہربانی کے مستحق ہیں.قصے سے سبق یہ ملا کہ جس کو تکلیف کے وقت اپنے اردگرد نہ پائے اس کو دوست،بھائی،یا پڑوسی نام مت دے.اور جو تنگی کے وقت تیرا ساتھ دے وہی آپ کے حقیقی ہمدرد ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: