نویدِ سحر

ماما کا فون آیا۔نغمہ کی طبیعت خراب ہے اسے ہاسپٹل لے کے جارہی۔۔فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔میں اس کے پاس ہوں۔اس کی امی بھی سیدھی ہاسپٹل آرہی ہیں.میں کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن ماما شائد جلدی میں تھیں۔

میرا جواب سنے بغیر ہی فون بند کر دیا.میری شادی میری پسند سے میری اپنی فیملی کے دور پار کے رشتہ داروں میں ہوئی تھی.نغمانہ کو میں نے اپنے کزن کی شادی میں دیکھا۔ان نوں میں اپنی تعلیم ختم کرکے جاب کی تلاش میں تھا اور ماما میرے لئے لڑکی کی,میں اپنے ماما بابا کا اکلوتا بیٹا تھا۔میں ایک بہت مہنگے ادارے کا پڑھا ہوا تھا اور مسلسل بہترین کامیابیاں حاصل کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا.ماما کے خیالات میرے بارے میں بہت اونچے تھے,بہت ہائی فائی گھرانے کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی جو کہ بہت خوبصورت بھی ہو.لیکن میں نے اپنی ماما کے سارے خوابوں کو توڑ کے رکھ دیا جب میں نے نغمانہ کا نام ماما کے سامنے لیا!ماما نے کوشش کی کہ مجھے باز رکھ سکیں لیکن میں بھی ضد کا پکا تھا.آخر کار ماما کو جا کے نغمانہ کا ہاتھ مانگنا پڑاور بہت جلد نغمہ میرے گھر میں میری دلہن بن کے آ گئی.میری ان دنوں نئی نئی جاب تھی اور میں ٹریننگ پہ دوسرے شہر تھا
جب میں جا رہا تھا تو میرا دل نغمہ کو چھوڑ کے جانے پہ نہیں تھا ادھر ماما بار، بار مجھے حوصلہ دے رہی تھیں کہ آج تھوڑی مشکل دیکھ لو گے تو آئیندہ زندگی میں اس کا پھل بھی پاؤ گے
میں ادھر ہی تھا .

جب نغمانہ نے مجھے ہماری پہلی خوشی کے بارے بتایا,لیکن ساتھ ھی ماما کی بھی کال آگئی.اب دوڑے دوڑے نہ آ جانا۔۔میں اور تمہارے بابا ہیں اس کے پاس۔۔ویسے بھی ابھی اسے آرام کی ضرورت ہے,پہلے بچے کی مرتبہ میرے صرف دو چکر لگے۔۔یہاں تک کہ ہاسپٹل کا وقت آگیا.ماما کی وہی بات کہ ،ہم ہیں اس کے پاس۔۔تم فکر مت کرو۔مرد بنو۔۔اپنے اندر بردباری پیدا کرواور پھر ماما کا فون آیا وہ مسلسل رو رہی تھیں.بیٹی آگئی ہے تمہارے گھر۔میری دعائیں ساری رائیگاں چلی گئیں،
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ خوشی کا اظہار کروں یا غم کابہر حال جب گھر پہنچا تو ماما، بابا کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کے میں ان کے پاس ہی بیٹھ گیا.ماما کی باتوں کالب لباب یہ تھا کہ اس لڑکی نے بیٹیاں ہی پیدا کرنی یہ اپنی ماں پہ گئی ہے
نغمہ خود بھی چار بہنوں میں تیسرے نمبر پہ تھی
میں کچھ دن رک کے واپس جاب پہ آگیا.میری ٹریننگ ختم ہو چکی تھی لیکن میری پہلی پوسٹنگ دوسرے شہر میں ہی ہوئی تھی.پہلی بچی کے بعد ایک سال میں میرے صرف دو چکر گھر کے لگ سکے
نغمی مجھے بہت مرجھائی ہوئی اور چپ چپ نظر آتی تھی۔وہ ویسے بھی صبر والی خاموش فطرت لڑکی تھی.اب پھر وہ ماں بننے جارہی تھی .

لیکن میرے اندر اگر کبھی کوئی لطیف جذبہ بیدار ہوا بھی تھا تو ماما کی باتوں سے وہ پھر سے سو چکا تھا.ماما وہی بات کہتی رہتی،، میرا تو ایک ہی بیٹا۔۔اللہ اب کے مجھے پوتا دے دیں،لیکن یہ تو اللہ کے کام جب رات کو ماما کی کال آئی تو وہ بہت دکھی تھیں .پھر سے بیٹی آگئی ابھی تو تمہارے کھیلنے کے دن تھے دو بیٹیوں کا بوجھ میرے معصوم بیٹے پہ آن پڑا،اب میں کیا کہتا۔۔خاموشی سے سنتا رہا ماما کہ رہی تھیں۔ابھی آنے کی ضرورت نہیں۔کسی پروگرام کے ساتھ آنا۔ اگلے ہفتے میں بچی کے بال کٹوانے ہیں اس وقت ہی آنا تا کہ بار بار نہ آنا پڑے,میرے اندر تو کبھی کوئی جذبہ، کوئی محبت جاگی ہی نہیں تھی اگر کوئی جذبہ تھا بھی تو ماما کی باتیں سن سن کے وہ سو چکا تھا۔۔۔ سو میں رک گیا.آج میں گھر جا رہا تھا آج چھوٹی 21 دنوں کی ہو چکی تھی.جب میں گھر پہنچا تو ماما نغمی اور بڑی بچی کے ساتھ ہاسپٹل گئی ہوئی تھیں۔۔بڑی بیٹی صنوبر کی کھانسی بہت بڑھ چکی تھی اس کا چیک اپ کروانا تھا.چھوٹی بےبی کے ساتھ ماسی گھر پہ تھیں.ماسی نے مجھے چھوٹی بچی کے پاس ہی بیٹھنے کا کہا اور خود میرے لئے کھانے کا انتظام کرنے چلی گئیں.

میں تھوڑی دیر خالی الذہن بیٹھا رہا پھر کارٹ میں دیکھا تو گلابی کپڑوں میں لپٹی ہوئی گڑیا آنکھیں موندے پڑی ہوئی تھی.مجھے لگا.اس کا ماتھا اور دہانہ میرے جیسا ہے.مجھے اس پہ بے اختیار پیار آ گیا.میں اس کو چھونے لگا تو ماما کی باتیں ذہن میں گونجنے لگیں ,بیٹیاں بوجھ ہی تو ہوتیں ہیں۔۔بیٹیاں تو ماں کی ہمدرد ہوتیں ہیں۔۔ہمارے بیٹے کا ساتھی تو اس کا بیٹا ہوگا،میں نے ہاتھ کھینچ لیا اور پھر سے کرسی پہ بیٹھ گیا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ گلابی بنڈل میں حرکت ہوئی.اس پہ جھکا ۔۔گڑیا نے آنکھیں کھولی تھیں۔۔اس کی آنکھیں بھی میرے جیسی ہی تھیں
وہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔پھر ایک جمائی لی۔۔وہ کچھ بے چین ہوئی۔۔اور پھر نیچے والا ہونٹ باہر نکال کے رونے کی تیاری کرنے لگی
بے اختیار میں نے اپنی انگلی اس کے ہاتھ میں پکڑائی.اس نے اپنی ننھی منی پوری جان کے ساتھ میری انگلی کو پکڑا اور کھینچ کے اپنے منہ میں ڈال لیا.چس چس کی آواز کے ساتھ وہ میری انگلی کو چوسنا شروع ہو گئی,میرے دل کی برف جو نا نغمہ کے گرم گرم آنسوؤں سے پگھلی نا اس کے خاموش شکووں سے پگھلی وہ اس ننھی منی گرفت نے پگھلا دیے بےاختیار میں نے چھوٹی سی گڑیا کو اٹھا کے سینے سے لگا لیا۔۔میری آنکھوں میں آنسو بہ رہے تھے۔گڑیا مجھے معاف کر دینا!ماما صنوبر اور نغمہ گھر آ چکی تھیں.میں نے ماما کے سامنے نغمہ سے کہا!یار اپنی تیاری کر لو کل انشاللہ ہم نکل جائیں گے۔چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ماما ،بابا کب تک تمہاری ڈیوٹیاں دیتے رہیں گے،ماما نے کہا۔۔ابھی تو کچھ ہی دن ہوئے ہیں ڈیلیوری کو،لیکن میں نے جواب سوچا ہوا تھا۔ وہی جو ماما مجھے اکثر کہتی تھیں.سارے زمانے کی عورتیں بچے پیدا کرتی ہیں۔اس نے کوئی نیا کام تو نہیں کیا،بس مجھے صرف یہ دکھ ہے کہ صنوبر کایہ قیمتی وقت اب دوبارہ تو نہیں آئے گا۔۔وہ میں نے مس کر دیا لیکن چھوٹی کے ان خوبصورت دنوں کو میں انجوئے کررہا ہوں.اس کا نام میں نےنوید سحر رکھا ہے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ یہ کیا نام ہے.یہ صرف میں ہی جانتا کہ نوید سحر ہی تو میری زندگی میں نئی صبح کی نوید لائی ہے ۔۔۔میں جو ممی ڈیڈی بچہ تھا۔۔اسی نے تو مجھے حوصلہ دیا کہ میں سب کو بتا سکوں کہ ان کا اور انکی ماں کا کفیل میں ہوں۔۔اگر میں ہی انہیں تحفظ نہیں دوں گا تو کون ان کے سر پہ ہاتھ رکھے گا۔۔۔ کون ان کا ہاتھ پکڑے گا۔۔دنیا سے لڑنا انہیں کون سکھائے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: