سلسلہ نصیحت و اصلاح

سورة الفرقان میں وہ کونسے 13 اعمال ذکر کئیے گئے ہیں جسکی وجہ سے کوئی مسلمان مرد یا خاتون، اللہ کے محبوب بندے بندیوں میں شامل ھو سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں؟؟اللہ تعالی کے محبوب بندے بندیوں کی 13 صفات۔

اللہ تعالی کے محبوب بندے،بندیوں کی “آٹھویں” صفت:وہ کبھی بھی قتل ناحق نہیں کرتے۔وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّـهُ اِلَّا بِالْحَقِّ-اور(اللہ کے محبوب بندے،بندیاں) اس شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کر دیا ہے۔صحیح مسلم کی روایت ہے کہ کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں، سوائے ان تین اشخاص کے:1-ایک وہ جو شادی شدہ ہو کر بھی زنا کرے۔(اور اس پر چار مرد عینی گواہ بنیں تو حکومت وقت ایسے شادی شدہ مرد یا عورت کو قتل کی سزا دے گی)2-دوسرا وہ جو کسی کو ناحق قتل کر دے۔(تو قصاص میں حکومت وقت اسے قتل کرے گی)3- اور تیسرا وہ جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے۔(نعوذ باللہ)(تب بھی حکومت وقت اسے قتل کی سزا سنائی گی)۔ان 3 طرح کے لوگوں کے علاوہ کسی کو قتل کرنا قتل ناحق کہلائے گا. اسوجہ سے قرآن و حدیث کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہےاور قاتل کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ایک طویل رصہ تک رہے گا، الله اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اسی وجہ سے الله تعالیٰ نے قاتل کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے، لہٰذا ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ قتل جیسے کبیرہ گناہ سے ہمیشہ بچے، حتٰی کہ کسی بھی درجہ میں قاتل کی مدد سے بھی بچنا بھی لازم ہے، کیونکہ بسا اوقات ایک شخص کے قتل سے نہ صرف اس کے گھر والوں کی زندگی، بلکہ خاندان کے مختلف افراد کی زندگی بعد میں دوبھر ہو جاتی ہے اور اس طرح خوش حال خاندان کے افراد بیوہ، یتیم اور محتاج بن کر تکلیفوں اور پریشانیوں میں زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں .

جس کا سبب اور گناہگار یہ قاتل ہوتا ہے۔صحیح بخاری کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے (یعنی اس کے لیے اعمالِ صالحہ کرنا آسان اور توبہ قبول ہوتی رہتی ہے) جب تک ناحق خون نہ کرے (جہاں ناحق خون کیا تو اعمالِ صالحہ اور مغفرت کا دروازہ تنگ ہو جاتا ہے۔جامع ترمذی کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر کسی ایک مسلمان کے قتل میں تمام آسمان و زمین والے بھی شریک ہو جائیں (یا اس کے قتل پر راضی ہوں) تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان سب کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔سنن نسائی کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن(یا مؤمنہ) کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بڑا(جرم) ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: