حضرت اِبراہیم علیہ السّلام کا خوابِ جنّت

حضرت اِبراہیم علیہ السّلام نے خواب میں جنّت کو دیکھا،اس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔اس کے درخت لَا اِلٰهَ اِلّا اللّٰهُ اور اس کی شاخیں مُحمّد رسول اللّٰه اس کے پھل سبحان اللّٰه والحمدللّٰه ہیں۔

اس کے دروازوں پر لِکھا ہے مُحمّد صلی اللّٰه علیہ وسلم اور آپ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت کے لیے تیار کی گئی ہے۔جب صبح ہوئی تو انہوں نے اپنا خواب اپنی قوم سے بیان کِیا۔وہ پوچھنے لگے:”مُحمّد صلی اللّٰه علیہ وسلم کون ہیں اور ان کی اُمّت کون ہے؟”حضرت اِبراہیم علیہ السّلام نے فرمایا:” مجھے نہیں معلوم۔”ان کے پاس جبریل علیہ السّلام آئے اور کہنے لگے:”اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مُحمّد صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم میرے حبیب اور میرے برگزیدہ خلق ہیں۔اگر وہ نہ ہوتے تو میں نہ دُنیا کو پیدا کرتا نہ جنّت کو نہ دوزخ کو،وہ دُنیا میں آخری نبی اور قیامت میں پہلے شفاعت کرنے والے ہوں گے ان کی اُمّت تمام اُمّتوں سے زیادہ میرے نزدیک کرامت رکھتی ہے اور جنّت خلق پر اُس وقت تک حرام ہے جب تک کہ مُحمّد صلی اللّٰه علیہ وسلم اور ان کی اُمّت اس میں داخل نہ ہو جائے۔”

نام کتاب = نُزہَتُہ المجالس ( جِلد دوم )
صفحہ = ۷۰۲
مُصنّف = علامہ عبدالرحمٰن صفوری رحمتہ اللّٰه علیہ
ناشر = اکبر بُک سیلرز،لاھور
۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: