خنزیر کا دل

پچھلے دنوں امریکہ میں ایک مریض کے سینے میں خنزیر کا دل لگانے کا عمل کیا گیا۔ ہمارے ہاں اس پر حسب روایت ایک بحث شروع ہوگئی کہ انسان میں خنزیر کا دل لگانا جائز ہے یا نہیں۔ اس بحث مباحثے کو سن کر مجھے قرآن مجید کی ایک آیت بہت یاد آئی۔

یہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ساٹھ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ان کے نزدیک بدترین انجام کے حقدار کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی، جن پر اس کا غضب ہوا اور جن کے اندر سے اس نے بندر اور سور بنائے اور جنھوں نے شیطان کی پرستش کی ہے۔اس آیت کو پڑھنے کے بعد جو زیادہ اہم مسئلہ سامنے آتا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ انسان کے سینے میں خنزیر کا دل لگایا جائے یا نہیں، زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود انسانوں کو خنزیر میں نہ بدل ڈالیں۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ حق و انصاف کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کا راستہ اختیار کرلیں اور خواہش اور مفاد کو اپنا معبود بنا لیں۔اس کی عملی شکلیں کئی ہوتی ہیں۔ ایک عملی شکل یہ ہوتی ہے کہ ہزاروں مسافروں کی گاڑیاں برف میں بےیارومددگار پھنسی ہوں اور تاجر ان کو پناہ دینے کے بجائے ایک کمرہ پچاس ہزار اور ایک انڈہ ہزار روپے کا بیچنا شروع کر دیں۔ اس کی عملی شکل یہ ہوتی ہے کہ طاقتوروں کے ناجائز تجاوزات کو اپنی جگہ سے ہلایا نہ جاسکے اور کمزوروں کے گھروں کو ناجائز قرار دے کر مسمار کر دیا جائے۔ اس کی عملی شکل یہ ہوتی ہے کہ قسم، حلف، وعدہ بے معنی الفاظ بن جائیں اور انسانی الفاظ کی حرمت ختم ہوجائے۔

اس کی عملی شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ دوا اور غذا میں بھی ملاوٹ شروع کر دی جائے۔جس معاشرے میں یہ سب کچھ اور ایسا بہت کچھ ہورہا ہو، اس کے اہل علم کو خنزیر کے دل سے زیادہ اس بات پر پریشان ہونا چاہیے کہ یہاں انسان ہی خنزیر میں کیوں بدل رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: