آخرت کی عدالت کے کچھ قوانین

آخرت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے یہ قوانین جان لیجئے-

‏1- ساری فائلیں اوپن ہوں گی-
ونُخرِجُ لَهُ يَوْمَ القِيامَةِ كِتابا يَلقاهُ مَنْشُورًا•
ترجمہ!!!”اور بروزِ قیامت ھم اسکے سامنے اسکا نامہ اعمال نکالیں گے- جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پا لے گا-(سورة بنی إسرائيل-13)2- سخت نگرانی کی حالت میں پیشی ہوگی-
وَجَاءتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ•
ترجمہ!!!”اور ہر شخص اس طرح آئےگا- کہ اسکے ساتھ ایک لانے والا ہوگا- اور ایک گواہی دینے والا-”
(سورة ق-21)

3- کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا-
وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ•ترجمہ!!!”میں اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ھوں-”
(سورة ق-29)4- دفاع کے لئے وہاں کوئی وکیل نہ ھوگا-اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا•ترجمہ!!!”لے! خود ھی اپنی کتاب آپ پڑھ لے- آج تو تو آپ ہی اپنا حساب خود لینے کو کافی ہے-”
(سورة بنی إسرائيل-14)5- رشوت اور سفارش بالکل نہیں چلے گی-یوْمَ لا يَنفَعُ مَالٌ وَلا بَنُونَ•ترجمہ!!!”اس دن نہ مال کام آئے گا- نہ اولاد”
(سورة الشعراء-88)6- ناموں میں کوئی تشابہ نہ ھوگا,ومَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا•
ترجمہ!!!”تمھارا رب بھولنے والا نہیں-”
(سورة مريم-64)7- فیصلہ ہاتھ میں دیا جائے گا-
فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيهْ•ترجمہ!!!”سو جسے اسکا نامۂ اعمال اسکے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا- تو وہ کہنے لگے گا- کہ لو میرا نامۂ اعمال پڑھو-“(سورة الحاقة-19)8- کوئی غائبانہ فیصلہ نہیں ہوگا-
وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ•
ترجمہ!!!”اور سب کے سب ھمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے-“(سورة يس-32)9- فیصلے میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگی-ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ•
ترجمہ!!!”میرےیہاں فیصلے بدلے نہیں جاتے”
(سورة ق-29)10- وہاں جھوٹے گواہ نہ ہوں گے-
يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ•ترجمہ!!!”جبکہ انکے مقابلے میں انکی زبانیں اور انکے ہاتھ پاؤں انکے اعمال کی گواھی دیں گے-”
(سورة النور-24)11- ساری فائلیں حاضر ھوں گی-
أحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ•ترجمہ!!!”جسےاللہ نے شمار رکھا ھے- اور جسے یہ بھول گئے-“(سورة المجادلة-6)12- اعمال تولنے کا باریک پیمانہ ھوگا-ونَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسبين•
ترجمہ!!!”قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے- ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو کو- پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا- اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا- ہم اسے لا حاضر کریں گے- اور ہم کافی ہیں- حساب کرنےوالے”
(سورة الأنبياء-47)یاد رکھیئے:
آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا دورانیہ ایک منٹ بھی نہیں ہے-

اَللّٰھُمَّ فَقِّھْنِاِْ فِی الدِّیْنِ-
“اے ﷲ! ھمیں دین کی سمجھ عطا فرما-“

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: