تصوف کا مقصد

حضرت سید سلمان ندوی احمد _رحمۃ اللہ علیہ_ نے میں نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی _رحمۃ اللہ علیہ_ سے پوچھا: حضرت! تصوف کا مقصد کیا ہے؟ حضرت نے جواب فرمایا:”تصوف کا مقصد ہے کہ انسان کے کے رگ رگ اور ریشے سے گناہوں کی کا کھوٹ نکل جائے.

“ہمارے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ سے ایک شخص نے پوچھا: حضرت! انسان بالغ کب ہوتا ہے؟ فرمایا: بالغِ شریعت یا بالغِ طریقت؟ اس نے کہا: حضرت! دونوں بتا دیں. حضرت نے فرمایا: ” جب انسان کے جسم سے منی نکلے وہ بالغِ شرعیت ہوتا ہے اور جو انسان منی سے نکل جائے وہ بالغِ طریقت ہوا کرتا ہے. یعنی شہوت سے متعلق جتنے گناہ ہیں، انسان ان گناہوں سے بچ گیا تو طریقت کی نظر میں وہ بالغِ طریقت بن گیا. ابھی تو طریقت کی نظر میں ہم بچے ہیں، کیونکہ گناہوں سے ہماری جان کہاں چھوٹی ہے؟ کون سا وقت آئے گا کہ ہم اس کے لیے ارادہ اور محنت کریں گے اور اللہ سے مانگیں گے؟ دیکھئے! ہم گھر میں اکیلے بیٹھ کر مانگیں گے تو پتہ نہیں دعا قبول ہو کے نہ ہو، تنہائی میں معاملہ صرف ہمارا ہوگا، لیکن مجمع میں کتنے نیک لوگ، کتنے اللہ کے مقرب بندے، کتنے مشائخ یہاں موجود ہیں، ہماری توبہ کا قبول ہونا نسبتاً زیادہ آسان ہے، اس لیے ایسے مجمع میں ہم پچھلے گناہوں سے سچی توبہ کر لیں اور آئندہ نیکوکاری کی زندگی گزارنے کا پختہ ارادہ کر لیں علی اور اس پر اللہ رب العزت سے استقامت مانگیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: