قرض باقی ہے

اسکا سوال اتنی معصومانہ حیرانگی کے ساتھ تھا کہ جواب کے لیے مجھے بہت دور جانا پڑا ۔جہاں کہیں میرا بچپن وقت کی دھول میں بہہ سا گیا تھا۔مگر کچھ چہرے ان سے وابستگی پر، محبتوں پرکبھی گرد نہیں جمی۔اور کچھ رشتے ایسے بھی رہے جن کے دوغلے پن ،خود پسندی کینہ پروری ،ریاکاری اور چھوٹے پن کو میں نے ہمیشہ یاد رکھا۔

اس لئے کہ مجھے ان جیسا نہیں بننا تھا۔جون کی گرم دوپہر میں کسی مہمان کی آمد جہاں ہوا کا ٹھنڈا جھونکا اور پانی کی نرم پھوار کی مانند ہوتا تو دوسری طرف کسی کی آمد گھٹن میں مزید اضافہ کر دیتی ۔اور میرے جیسے حساس بچے عافیت مانگتے۔جل تو جلال تو آئ بلا نوں ٹال تو ۔
یہ وہ ورد تھا جو ہماری سہیلی چھوٹی پھپھو نے ہمیں سکھایا تھا ۔کہ جب بھی کوئی آفت آۓ تو پڑھ لیا کرو ۔بس پھر یہی ہوتا۔گھر کے اندر بھی کچھ ایسے تھے جو ہر لحاظ سے چبھنے کا کام کرتے ،تکلیف دینے کا کوئی موقع خالی نہ جانے دیتے ۔پنیترے بدل بدل کر آپس میں وار کرتے۔گویا حاصل زندگی یہی ہو۔کچھ لوگ اپنے خاص کاموں کے سبب سے یاد ہیں۔مثلامیرے بڑے چچا جب بھی آتے سب کا الگ سے حال احوال پوچھتے توجہ سے محبت سے ایک ایک بچے سے ملتے ۔ ڈرائ فروٹس کی پیٹیاں لاتے۔ہمیں ان کے ساتھ ساتھ پیٹیوں کا انتظار بھی ہوتا۔ابو جی ہمیشہ بھر ے پرے آتے۔خاص طور پر جب کسی کی شادی کی تیاریاں ہو ر ہی ہوتیں۔سب چچاؤں نے سب بچوں کے الگ الگ پیار سےنام رکھے ہوۓ تھے۔اور ہمیں ہر ایک کے تمام نام ازبر ہوتے تھے۔سارے چچا فوج میں مختلف جگہوں پر پوسٹنگ تھے خط لکھتے تو ایک ایک کا الگ سے پوچھتے۔ان کے خطوط میں اپنے لئے لکھے جملے ہمیں ہمیشہ ازبر رہے۔سب کو خوشی سے بتاتے میرے چچا نے میرے بارے میں یہ کہااور یہ پوچھا۔
چھوٹے چاچو جو کالج میں پڑھتے تھے۔وہ کسی بہانے چپکے سے ہمیں بازار لے جاتے۔ٹافیاں پونیاں دلاتے۔اور ہم وہ چھوٹی چیزیں پاکر خود کوفضاؤں میں اڑتا محسوس کرتے۔ہمارے ایک پھوپھا جان ہم بچوں کو خاص پروٹوکول دیتے۔

ہمیں لگتا ہم کسی نگر کے شہزادے شہزادیاں ہیں۔ہم انکے آنے کی خوب دعائیں کیا کرتے۔ دادا جان کے بھائی مصری نون ہمیں آج بھی یاد ہیں وہ جب بھی آتے ان کی جیبیں کسی نہ کسی چیز سے بھری ہوتیں ۔ہم سب ان سے چمٹ جاتے۔اور وہ محبت بھرے قہقہوں کے درمیان جیبیں خالی کرتےجاتے۔اکثر وہ اپنے باغ کے لال امرود لایا کرتے ۔تصور میں انکا کھلکھلا تا چہرہ آج بھی تازہ ہے۔جبکہ ان کو دنیا سے رخصت ہوئے بھی برسوں بیت گئےہیں۔ایسے میں کچھ خواتین بھی یاد ہیں جو بناوٹی پیار جتاتیں ہمیں زرہ اچھی نہ لگتیں۔دادی جان کی ساری سہیلیاں یاد ہیں۔ ان کی خاص بات محبت سے دعائیں دینا تھیں۔ اللہ نصیب اچھے کرے۔۔شالہ جیندی رہوے۔۔کجے پردے ہونی۔۔۔ہتھ پران نروے ہونیں۔۔۔ اللہ پیو تے بھائیاں دی زندگی کرے۔۔اللہ سکھی صحتیں رکھے۔اور وہ سارے بابے بھی یاد ہیں ۔جن کی نگاہوں میں اپنائیت اور محبت اور لبوں سے دعائیں سننے کو ملتیں۔ان سب کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ بزرگ کا خاکہ ہی دعاؤں میں رچا بسا ذہن میں بن گیا۔اور ایک عادت سی ہو گئی ہے۔کہیں کوئی آسانی کا سبب بنے دعائیں دل سے نکلتی ہیں۔ سہیلیاں ساتھ ہوں تو وجہ پوچھتی ہیں کہ اس نے اس خدمت کا عوض لیا احسان کیسا .

میں انھیں ضرور بتاتی ہوں۔وہ تو اس کا اجر تھا۔اللہ کا حکم احسان کا ہے۔اور احسان یہ ہے بغیر بدلے یا صلے کے دیا جائے۔لہذا اور کچھ نہ ہو تو دعا دے کر ہی پلڑا بھاری کر سکتے ہیں۔چاہے وہ رکشے والا ہو آدھی رات پانی کا ٹینکر لانے والا ہماری دعاؤں کا حقدار ہے۔آج کی بزرگ خواتین جو دعائیں نہیں دیتیں تو لگتا ہے کچھ کمی سی ہے ۔رات سونے سے پہلے بزرگوں کے پاؤں دباتے جو دعائیں ملتیں تھیں ۔تو ان کا اثر زندگی میں اب بھی محسوس ہوتا ہے۔دعاوں سے ہماری جھولیاں بھر جایا کرتیں تھیں۔یہاں تک کہ بزرگ مخاطب بھی دعاوں سے کیا کرتے۔شالہ خیر ہووی گل تہ سنیں ہا ۔ایک دفعہ گھوڑے پر سوار ایک بابا جی آۓ۔میں داداجان کے ساتھ تھی۔انھوں نے گندم لی اور میرے سر پر ہاتھ رکھتے بولے۔ای کڑی بڑے نصیباں والی ہے۔اس دے نصیب دی بلندی اس دی پیشانی تے لکھی اے۔۔۔میں اس وقت سات سال کی تھی۔وہ بابا اور ان کی بات مجھے آج بھی یاد ہے۔جب بھی قسمت کبھی مشکل موڑ پر لائی وہ اور اس جیسے کئ جملے لاشعور میں دلاسہ دینے والے بنےرہے۔کہ تو تو بڑی نصیبوں والی ہے۔تیرا نصیب تو تیری بلند پیشانی پر لکھا ہے۔ ان جملوں نے پوری زندگی ملکہ بناۓرکھا ۔وہ پیاری تمنائیں اور دعائیں ہر غلط راستے پر رکاوٹ بنی ملیں۔یہ تو میری خدمت گزار بیٹی ہے۔

بڑوں کے بہلاوے اور جملے اچھائی کی طرف موڑنے والے ہوتے۔۔میری دھی رانی پڑھدی قرآن تے بھردی پانی۔۔۔ کسی میں نماز کی ترغیب ہوتی تو کسی میں نیکی کی۔کچھ مخصوص تعصبات کو بھی ابھارا جاتا۔جو بہرحال پنجاب کے ماحول پر ایک حاوی رویہ ہے۔حقارت اور نفرت سے بھرے رویوں سے بھی سابقہ پڑتا رہا۔جس سے سبق ملا ایسوں سے کوئی ملنا بھی پسند نہیں کرتا۔منافقت،چاپلوسی،ریاکاری کے رویے دوسروں سے ذیادہ خود کو تباہ کرتے ہیں۔ ایسے میں کانٹ چھانٹ کر ایک سانچہ بنایا۔اس میں نمایاں حصہ اور کردار ،رول ماڈل اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا ۔جو تھے بہت عظیم بہت بڑے ،خالق کائنات کا شاہکارلیکن ہم جیسے چھوٹے بچوں سے خاص محبت کیا کرتے تھے۔ احساس کرتے ،بڑوں پر ترجیع دیتے۔ایک عزم باندھا ایسی شخصیت بننا ہے۔جو بچوں کی محبوب اور پسندیدہ ہو۔کچھ عرصہ پہلے ہی افشی نامی یہ لڑکی میری دوست بنی تھی۔وہ دیکھتی تھی ۔کہ جب بھی کوئی بچہ گھر آتا ہے۔میں سب کام چھوڑ کر پرتپاک انداز میں استقبال کرتی ہوں۔انھیں جو دستیاب ہو پیش کرتی ہوں۔ان کی دلچسپیوں کے سوالات پوچھتی مگن ہو جاتی ہوں ۔تو اس کا سوال تھا ۔تم بلاتفریق سب بچوں سے ایسی محبت کیوں اور کیسے کرلیتی ہو؟

میں نے اسے سمجھایا ان بچوں میں قدرت نے ایسا آئینہ فٹ کیا ہوتا ہے۔جو اچھے برے کی پرکھ کرتا ہے۔میں ان سے مل کر دراصل اپنا اصل چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ان کی آنکھیں جب نتیجہ بتاتی ہیں۔تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔لگتا ہے ان کی محبت،ان سے محبت حاصل زندگی ہے۔ایک موٹیویشنل اسپیکر نے گزشتہ دنوں لیکچر کے دوران عجیب بات کہی ۔کہ کہیں رشتہ کرنے جاؤ تو بچے کو ساتھ لے جاؤ۔اگر وہ موصوف سے گھل مل جائے تو سمجھو بندہ کھرا ہے۔بچوں میں بناوٹ ،جھوٹ ،ریاکاری نہیں ہوتی ان سے قریب ہونے انکی عزت کرنے کے نتیجے میں آپ میں بھی یہی صفات پیدا ہونے لگتی ہیں۔بچے لڑ جھگڑ کر لمحوں میں ایک ہو جاتے ہیں۔اور کسی برائی کو مستقل ڈیرہ جمانے نہیں دیتے۔ان میں گردن میں سریہ نہیں ہوتا۔جب میرے بچے ہوئے۔تو انکے لئے میرا سب سے بڑا تحفہ نیک تمنائیں تھیں۔میں بچوں سے کھیلتے ہوئے جو جملے بولتی ۔ان میں سے کچھ جملے ۔آپ اللہ کی نعمت ہو۔آپ میرے لئے اللہ کی رحمت ہو۔اللہ کا شکر جس نے چن چن کر مجھے آپ جیسے اچھے بچے دۓ۔میرا بیٹا تو مجاہد ہے۔یہ تو صلاح الدین ایوبی بنے گا۔آپ کو حسن البنا بننا ہے.

۔میں نے آپ کا نام ان کے نام پر رکھا ہے۔ آپ تو دین کی خدمت کرو گے۔آپ کو اپنے اللہ سے محبت کرنی ہے۔ آپ تو بنے ہی دین کی خدمت کے لئے ہو۔آپ اس لئے خاص ہو کہ بڑے ہو کر آپ نے اسلام پھیلانا ہے۔آپ دنیا کی ہر دولت سے بڑی دولت ہو۔غرض وہ سب جو مجھے لگتا تھا جس سے زندگی کو مقصد ملے گا ۔انھیں دن رات صبح وشام یہی لوریاں سنایا کرتی۔یہ وہ قرض تھا جو مجھے اپنے بڑوں سے تمناؤں کی صورت ملا ۔مجھے اپنی تمنائیں اگلی
نسل کو منتقل کرنی تھیں۔اس کے ساتھ کوشش یہ بھی کی ہر بچے کو اپنائیت ،محبت،شفقت دوں۔ اتنی کہ وہ اسے اگلے نسلوں کو منتقل کرنے پر مجبور ہو جائیں۔آج بھی جب کسی سے ملیں اور آنکھوں میں اجنبیت ہو۔یا کسی کے گھر جائیں اور وہ بس سر سری سا جواب دے ۔ تو دل چاہتا ہے ۔پھر کبھی وہاں نہ جائیں۔دس سال بعد ایک سہیلی سے ملاقات ہوئی۔کہنے لگیں ۔سرشار کر دیا اس ملاقات نے۔عرصے سے بس گھر کی ہو کر رہ گئی ہوں ۔دل چاہتا ہے کوئی اپنا ہو ۔بہنیں دور ہیں ۔بھائیوں کے گھر جاؤ تو وہ سلام کا جواب بھی گویا احسان سمجھ کر دیتےہیں اور بھابھیاں بچوں میں مشغول زبان حال سے گویا کہہ رہی ہوتی ہیں۔ہمارے پاس تمھارے لئے لمحہ بھی نہیں ۔کاش بھائیوں کے گھر بھرم کا ہی سامان میسر ہوجاتا ہوتا۔مسکراہٹ اور اپنائیت بھرے دو بول بولنے میں تو کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔یہ دو بول ہی تو رشتوں کی جان ہوتے ہیں۔
اسی لئے میرے نبی کو اعلیٰ اخلاق سے نوازا گیا ۔مروت دی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئ بات کرتا تو آپ مکمل متوجہ ہوتے۔اس کی طرف رخ کر لیتے۔ بچوں کو پیار سے بوسہ دیتے۔بیٹی کے لئے کھڑے ہو جاتے۔اپنی چادر تک بچھا دیتے۔نازک آبگینے جیسی پیاری تشبیہات دیتے۔جگر کا ٹکڑا کہتے۔اپنےبچوں کے لئے سواری بن جاتے۔ویلکم کے یہ انداز ہیں جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا ۔کہ”(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے .”

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید ہدایت دی گئی ن کے قصور معاف کر دو، اِن کے حق میں دعا ئے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں.”دعا کرنا خیر خواہی کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔رب کریم نے اپنے بھائی کے لئے مانگنے والے کو ویسا ہی عطا کرنے کی بشارت دی ہے۔یاد رہے زندگی دکھوں بھری ہے۔ہر شخص کو کچھ دیر کے لئے کندھا درکار ہوتا ہے۔جس پر سر رکھ کر پرسکون ہو سکے۔ہمارے معاشرے میں ان کندھوں کا افلاس ہے۔
دل کی غربت عام ہے۔یہ بچے کل اس مفلسی کو ختم کرنے والے بنیں گے۔وہ سحر زدہ سی سنتی رہی۔اس کی آنکھوں میں کچھ کھو جانے کا احساس تھا۔پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگی۔سوچ رہی ہوں ۔بہت دیر ہو گئی۔لیکن نہیں۔ بہت کچھ اب بھی باقی ہے۔قرض تو مجھ پر بھی بہت ہیں۔وہ خود کلامی کرتے اٹھ کھڑی ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: