نورِ ولایت سے محرومی کیوں؟

ایک عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ دین کے شعبوں میں لگے ہوتے ہیں،، مثلا: کوئی ذکر میں، کوئی دعوت و تبلیغ میں، کوئی علم کے لیے مدارس میں، تو یہ جتنے بھی لوگ ہوتے ہیں، عام طور پر بڑے گناہوں سے بچتے ہیں، لیکن ایک دو گناہ ایسے ہوتے ہیں.

جنہوں نے ان کو الجھایا ہوتا ہے، مثلاً :کوئی آنکھ کا بیمار ہے تو اس کی آنکھ قابو میں نہیں، حالانکہ ہے وہ بڑا شریف انسان، عبادت کا ذوق بھی ہے شوق بھی ہے، ذکر کرتا ہے، مرا قبہ کرتا ہے، لیکن آنکھ کا پرہیز اس کے لئے مشکل بنا ہوا ہے.اسی طرح بعض کیلئے زبان کا پرہیز بہت مشکل ہے، کبھی تو جھوٹ اور غلط بات کہہ دیتے ہیں، سخت بات کہہ دیتے ہیں ہیں اور دوسرے کا دل دکھا دیتے ہیں. اسی طرح کوئی شرمگاہ کے گناہ میں ملوث ہے، جبکہ تلاوت بھی پابندی سے ہوتی ہے، تسبیحات بھی ہیں، تہجد بھی ہے، نیکی بھی ہے اور لوگ اس کو نیک بھی سمجھتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کا معاملہ تکمیل کو نہیں پہنچ رہا، کیونکہ وہ کسی نہ کسی گناہ میں ملوث ہوتا ہے، غرض اکثروبیشتر مشاہدہ یہ ہے کہ اگر شریعت میں سو گناہ ہے تو کوئی نوے سے بچا رہا ہے، کوئی پچانوے سے، کوئی 96 سے، کوئی ستانوے سے بچ رہا ہے، لیکن اس کے لئے ایک دو گناہوں کو چھوڑنا مشکل بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ولایت کے نور سے وہ بندہ محروم رہتا ہے.”حسرت ہے اس مسافر مضطر کے حال پر
جو تھک کہ رہ گیا ہو منزل کے سامنے”.منزل بھی سامنے ہو اور وہ تھک کر بیٹھ جائے، تو وہ بندہ کس قدر لائقِ حسرت ہے.

جب ہم سے سر پر ٹوپی، پگڑی رکھ لی چہرے پر سنت سجا لی، لباس کی وضع قطع سنت کے مطابق بنا لی تو بہت سارے گناہوں سے یہ سنت والی وضع قطع ہی بندے کو بچا دیتی ہے. الحمداللہ! اس وضع قطع کی یہ برکت ہے کہ بہت سارے گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے، لیکن جو دو چار گناہ انسان کر لیتا ہے، بس وہ اس کے لئے رکاوٹ بن جاتے ہیں، جبکہ اللہ رب العزت کا وصل اس وقت نصیب ہوتا ہے جب انسان سو فیصد گناہوں سے بچے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: