عورت پر ظلم

کیا یہ عورت پہ ظلم نہیں کہ مرد شادی کے ایک ہفتے یا مہینے بعد ہی بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور بیوی کو دو دو تین تین سال کے لیے پاکستان چھوڑ جاتے ہیں.


یا تو شادی کے بعد بیوی کو بھی ساتھ رکھیں یا پھر شادی کے بعد اپنے ملک میں ہی مناسب نوکری تلاش کر لیں تھوڑے پہ گزارہ کر لیں لیکن اپنوں کے ساتھ رہیں اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر شادی کر کے دوسروں کی بیٹیوں کو آزمائش میں مت ڈال کر جائیں،بہتر ہے شادی ہی نہ کریں یا تب کریں جب اسکو ساتھ رکھ سکیں.وہی بچی جو کھلی کھلی ہوتی ہے شادی کے وقت، بعد میں وہی بچی شوہر کے جانے کے بعد مرجھا جاتی ہے دس دن سسرال رہتی تو دس دن میکے اس طرح کی شادیوں میں ہمارے والدین بھی قصوروار ہیں اکثر لڑکی والے اسی رشتے کو ترجیح دیتے ہیں جس لڑکے کا روزگار باہر ہو اور باہر چاہے وہ کچھ بھی کرتا ہو بس باہر کی آمدنی ہو. یہ نہیں دیکھا جاتا بندہ بندے کے ساتھ رہتا ہے زندگی گزارتا ہے پیسہ آنی جانی چیز ہے .پھر یہ ہوتا ہے کہ مرد دو تین سال بعد آتا ہے بچے ہوتے اور بڑے ہوتے رہتے اور پھر مرد و عورت دونوں بس پیسے کی لالچ میں بچوں کے مستقبل کے لیے جدا رہنا گوارہ کر لیتے ہیں اسکا ایک نقصان یہ ہوتاہے کہ بچے بگڑ جاتے ہیں انکی شخصیت نفسیاتی مسائل کا شکار ہو تی ہے کیو نکہ اولاد کی تر بیت میں والد کا اہم کردار ہو تا ہےوالد ایک سائبان کی طرح ہو تا ہےاولاد کے لئے .کیا فائدہ ایسی شادی شدہ زندگی کا کہ پیسے کی تو ریل پیل ہو اور میاں بیوی جدا جدا….!
منقول

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: