نماز کے درجات

ابن قیم کہتے ہیں نماز میں لوگوں کے مختلف درجات ہوتے ہیں :نماز کے ارکان اور واجبات میں کوتاہی کرنے والا
جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی اس کی وہ چیزیں بھی پوری نہیں۔نماز کے ظاہری ارکان کی حفاظت کرنے والا
وضو اچھا سا کرکے نماز کے ارکان بہت اچھے ادا کرتا ہے.

لیکن دل الجھا ہوا ہوتا ہے.اپنے نفس میں آنے والے وسوسوں کے ساتھ جہاد کرنے کو ضائع کر دیتا ہے وہ سوچوں اور وسوسوں میں کھو جاتا ہے۔نماز کے ارکان کی حفاظت کے ساتھ نفس کے ساتھ جہاد کرنے والا,یہ دشمن کے ساتھ جہاد میں مشغول ہوتا ہے تاکہ دشمن نماز چوری نہ کرلے.نماز میں انتہائی ڈوبا ہوا ہونا.نماز کے حقوق اور ارکان کو مکمل کرتا ہے.دل کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے پورا ارادہ ہوتا ہے کہ نماز اسی طرح قائم کرے جیسے کرنی چاہیے۔دل سے دیکھتے ہوئے اللہ کو نماز پڑھنا,دل سے اپنے رب کو دیکھ رہا ہوتا ہے اس کا دل اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے گویا کہ رب کو دیکھ رہا ہوں وسوسے اور خیالات بلکل ختم ہو جاتے ہیں اتنا افضل اور عظیم آدمی۔
پہلی قسم کے لوگوں کو نماز پڑھنے کے باوجود سزا دی جائے گی۔دوسری قسم کے لوگوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔
تیسری قسم کے لوگوں کی نماز گناہوں کا کفارہ بن جائے گی۔چوتھی قسم کی نماز پڑھنے والے لوگوں کو اجر و ثواب دیا جائے گا۔پانچویں قسم یہ رب کے قریب ترین لوگ ہوں گے مقربین میں سے ہیں .کیونکہ یہ لوگوں کے اس گروہ میں سے ہیں جن کے لئے نماز ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے. خشوع کے فائدے..نماز میں خشوع فلاح کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔اللہ کے ڈر اور خوف کا وارث بنا دیتا ہےانسان کی اصلاح اور استقامت کی دلیل ہے.

نظروں کی حفاظت کی طرف لے جاتا ہے.گناہ کم ہوجاتے ہیں اجر بڑھ جاتا ہے عذاب اور برے انجام سے نجات ملتی ہے۔جنت کے ساتھ کامیابی کی بشارت مل جاتی ہے.بلند درجات ہونگے.دل سے سختی دور ہوجاتی ہے. شیطان خشوع کرنے والے کے قریب نہیں آتا.خشوع پیدا کرنے کے اسباب…جگہ کی صفائی ، لباس میں سادگی ہو تنگ نہ ہو۔ہر اس چیز سے بچیں جو غافل کر دیتی ہے۔ماحول سے تصاویر کو دور کر دیں۔گھر کے کسی پرسکون حصے کا انتخاب کریں.نماز میں سترہ کا اہتمام کرنا اس سے بھی خشوع میں فرق پڑتا ہے.گفتگو کرنے والے اور سونے والے کے پیچھے نماز نہ پڑھنا,کھانے اور قضائے, حاجت کی موجودگی میں نماز نہ پڑھنا,نیند کے غلبے میں نماز نہ پڑھی جائے.باطنی اسباب .نماز نفس کے ساتھ ایک معرکہ ہے گویا آپ کشتی لڑ رہے ہیں.نفس کہتا ہے جلدی کرو اسکی نہیں ماننی چاہیے.نماز کی قدر پہچاننی چاہیے سوچنا چاہیے کتنے قیمتی لمحات ہیں.نماز کے لیے تیاری کرنی چاہیے.نماز کا ترجمہ آنا چاہیے.سجدے میں دعائیں کرنی چاہیے.تیز نماز نہ پڑھنا نفس کو یاد دلانا کے رب کے سامنے کھڑے ہیں.اللہ سے ملاقات کا احساس اپنے اندر زندہ کرنا.اللہ کی قدرت اور عظمت کو سوچنا ,دل کو دنیا کے خیالات سے خالی کر دینا,موت کو یاد رکھنا,قرآن کو ٹھہر ٹھہر کا پڑھنا,اطمینان اور سکون سے ہر رکن ادا کرنا
نگاہیں سجدے کی جگہ پر رکھنا آنکھیں بند کرکے نماز نہ پڑھنا.دوران نماز سجدے کی جگہ سے چیزوں کو ہٹانا نہیں کپڑا ٹھیک نہیں کرنا ڈوپٹہ بار بار ٹھیک نہیں کرنا.خشوع کے لیے دعائیں مانگنا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: