حدیث والے قیامت تک زندہ رہیں گے۔

رسول اللہ نے فرمایا: لا تزال طائفة من أمتی مضؤريين لا ي هم من خذلهم حتى تقوم الساعة (ترمذی) میری امت سے ایک جماعت منصور رہے گی۔

ان کی برائی چاہنے والا انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔امام یزید بن ہارون فرماتے ہیں: اگر اس جماعت سے اہل حدیث مرادنہ ہوں تو میں نہیں جان سکتا کہ اور کون لوگ مراد ہیں۔حضرت ابن مبارک نے اس حدیث کی شرح میں جس میں ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ قیا مت تک حق کے ساتھ غالب رہے گی ، دشمنوں کی برائی انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ فرماتے ہیں:۔میرے نزدیک اس سے مراد اہل حدیث ہیں۔ حضرت امام احمد بن حنبل سے بھی اس حدیث کی شرح میں ہی وارد ہے۔ بلکہ وہ تو فرماتے ہیں:۔اگر اس سے مراد اہل حدیث نہ ہوں تو کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت احمد بن سنان اس حدیث کو ذکر کر کے فرماتے ہیں اس سے مراد اہل علم اہل حدیث ہیں ۔ امام علی بن مدینی بھی فرماتے ہیں کہ اس سے اصحاب حدیث مراد ہیں ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ جماعت اصحاب حدیث کی ہے۔
(شرف اصحاب الحدیث)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: