عمر فاروق کااسلام لانا


امیر حمزہ سے تین دن پیچھے عمر بن خطاب مسلمان ہوئے ، یہ بڑے دلیر اور بہادر تھے۔ قریش کی طرف سے بیرونی ممالک کی سفارت کا کام ان سے متعلق تھا.

ایک دن عمر اپنی بہادری کے بھروسے پر نبی کے قتل کا ارادہ کر کے گھر سے نکلے ، بدن پرنسب ہتھیار سجا رکھے تھے، راستے میں ان کو پتہ لگا کہ بہن اور بہوئی دونوں مسلمان ہو گئے ہیں۔یہ سن کر بہن کے گھر گئے ، ان دونوں کو خوب مارا۔ ان کی بہن فاطمہ نے کہا: ”عمر !تم پہلے وہ کتاب سن لو، جسے سن کے ہم ایمان لے آئے ہیں، اگر وہ تم کو اچھی نہ لگے تو ہم کو بار ڈالنا۔‘‘عمر نے کہا ۔”اچھا اس وقت ان کے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صحابی بھی تھا۔ جوڑ کے آ جانے سے چھپ گیا تھا ۔ اس نے قرآن مجید (طہ کا پہلا رکوع) سنایا ۔ عمر قرآن سن رہا تھا۔ اور بے اختیار رورہا تھا۔ غرض عمر اس وقت سے نبی اور قرآن پر ایمان لے آیا، جو گھر سے قاتل بن کر نکلا تھا۔ وہ جاں نثار ار بن گیا۔ آگے چل کر ان کا لقب فاروق‘‘ہوا۔اس وقت تک مسلمان نماز اپنے گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھا کرتے تھے۔ اب کعبہ میں جا کر پڑھنے لگے.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: