غزوہ خندق ایمان افروز واقعہ

یہ بھی غزوہ خندق کا واقعہ ہے کہ دوران محاصرہ میں خدا جانے کتنے ایمان افروز واقعات پیش آئے ہوں گے یہاں صرف اس واقعے کا ذکر ہے جس میں رسول اللہ کی پھوپھی حضرت صفیہ دوسری مستورات کے ساتھ جس قلعہ نما عمارت میں مقیم تھیں .

وہ بنو قریظہ کی آبادی سے قریب تھا۔ حضرت حسان کو وہاں مستورات کی حفاظت کے لیے مقررکر دیا گیا تھا۔ جب بنو قریظہ عہد شکنی پر آمادہ ہو گئے تو حضرت صفیہ نے دیکھا کہ ایک یہودی عمارت کے اردگرد پھر کر حملے کے مناسب مواقع کا سراغ لگا رہا ہے۔ حضرت مفي نے حضرت حسان نے کہا کہ اسل کر دو، ورنہ ہی اپنے بھائی بندوں کو پیادےدے گا۔ حضرت حسان کو ایک عارضہ ہو گیا تھا جس نے ان کو اس قدر کمزور کر دیا تھا کہ وہ لڑائی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اس بنا پر اپنی معذوری ظاہر کی کہ میں اس کام کا ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا ۔ حضرت صفیہ نے خیمے کی چوب اکھاڑ لی اور اتر کر یہووی کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس سر پھٹ گیا۔ حضرت صفیہ نے کہا، ہتھیار اور کپڑے چھین لاو۔ حضرت حسان نےکہا جانے دے مجھ کو اس کی ضرورت نہیں ۔ حضرت صفیہ نے کہا اچھا جاؤ اور اس کا سر کاٹ کر قلعے کے نیچے پھینک دو کہ یہودی مرعوب ہو جائیں، لیکن یہ خدمت بھی حضرت صفیہ ہی کو انجام دینی پڑی۔ اس طرح یہودیوں کو یقین ہوگیا کہ قلعے میں کچھ فوج متعین ہے۔ (سیرۃ النبی جلد اول)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: