حضرت على حضور کی سیرت بیان کرتے ہیں!


حضرت حسن کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ اپنے ہم نشینوں میں آنخضرت کی سیرت کیسی تھی؟انہوں نےکہا: رسول الله ہمیشہ خندہ پیشانی سے رہنے والے، نرم اخلاق والے سہولت کی زندگی بسر کرنے والے تھے۔

نہ ڈرشت خوتے، نہ بد مزاج ۔ نہ بے ہودہ گفتگو کرنے والے، نہ عیب جوئی کرنے والے۔ جس چیز کی خواہش نہ ہوئی، اس سے تغافل برتے۔ نہ اس کا عیب بیان کرتے ، نہ اس سے رغبت ظاہر فرماتے ۔ تین چیز میں آپ نے خود ترک فرمادی تھیں: شرک کرنا ، مال کثیر جمع کرنا اور غیر مفید باتیں کرتا۔ تین چیزوں سے اپنے لوگوں کو چھوڑ دیا تھا۔ کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے، کسی کو عار نہیں دلاتے تھے کسی کی پوشیدہ بات کا تجسس نہیں کرتے تھے۔ صرف وہی کام کرتے جس میں آپ کو ثواب کی امید ہوتی تھی۔ جب گفتگو فرماتے تو اہل مجلس اس طرح خاموش ہوجاتے جیسے ان کے سروں پر ڈیاں بھی ہیں۔ پھر جب آپ خاموش ہو جاتے تو لوگ کام کرتے ۔ مسافر غریب کے بات کرنے یا سوال کرنے میں اس کی بے ادبی پر صبر فرماتے ۔ اس وقت اصحاب سے دور ہٹانا چاہے تو آپ فرماتے :”جب کسی ضرورت مند کو دیکھو کہ کبھی طلب کرتا ہے، تو اس کی مدد کر‘‘ – سوانے تلافی کرنے والے کے اور کسی کی مد د قبول نہیں کرتے تھے۔آپ کسی کی بات کو منع نہ کرے ، کسی قطع تعلقی نہ کرتے ۔ حلم وصبر کے جامع تھے۔ آپ کو نہ تو کوئی چیز غضب ناک کرتی، نہ بے زار ۔ ان باتوں سے احتیاط کرتے,جن سے کسی کی دل آزاری ہوں .نیکی کے اخذ کرنے میں کہ اس کی پیروی کریں، بدی کے ترک کرنے میں کہ اس سے باز رہیں، اور امت کے امور میں عقل سے غور وفکر میں، اور ان امور کے قائم کرنے میں جن سے امت کی دنیاو آخرت جمع ہو. (ابن سعد)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: