حضرت ایوب انصاری کا شرف

حضرت ابو ایوب انصاری بڑے عظیم القدر صحابی تھے۔ تاہم رسول اللہ کی میزبانی نے ان کا شرف اتنا بڑھا دیا کہ جب وہ حضرت علی کے عہد میں بصرہ گئے اور حضرت ابن عباس وہاں خلیفہ کی طرف سے نائب تھے .

تو انہوں نے اپنا مکان پور ے سامان کے ساتھ حضرت ابوایوب کے لیے خالی کر دیا اور خوددوسری جگہ جا کر رہنے لگے۔ جب حضرت ابوایوب نے واپسی کا قصد فرمایا تو حضرت ابن عباس نے انہیں ہزار اشرفیاں اور چالیس خادم بطور ہی پیش کیے۔ پھر جب امیر معاویہ کے عہد میں مسلمانوں نے تطنطنیہ پر حملہ کیا تو حضرت ابو ایوب بھی اس فوج میں شامل تھے۔ آپ نے محاصر تطنطنیہ ہی کے دوران میں وفات پائی اور وصیت کی کہ ان کی میت مدینہ سے قریب ترلے جا کر دفن کی جائے اور پھر اسی پر عمل ہوا1453ء میں سلطان محمد فاتح نے تطنطنیہ پر قبضہ کیا تو حضرت ابو ایوب کی مرقد مبارک کا سراغ لگایا. سلاطین کے جلوس کی رسم تمرکا اسی مسجد میں ادا کی جاتی تھی۔حضرت ابوایوب کا یہ مکان مغیرہ بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے ایک ہزار دینار میں خریدا۔ اسے درست کرایا اورفقر اومد ینہ کے لیے وقف کردیا۔ وہاں مقبرہ تعمیر کرایا اور ساتھ ہی عالی شان مسجد بنوائی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: