اللہ تعالی نے اسلام سے ہماری عزت بڑھائی


تاریخ اسلامی میں ہی ایک واقعہ ہے جس سے اسلای خود داری کی حقیقت ظاہر ہوئی کہ وہ تزک و احتشام ،تکلف تصنع اور جاہ وسلم کی نمائش کا نام نہیں.

بلکہ یہ ہے نفس کے تواضع اور دل کی خاکساری کے ساتھ اسلام کی عزت اور کافر اس کو اتنا اونچا کردے کہ اگروہ غریب و مفلس اور کن دور بھی ہو تو وہ ہر ظاہری قوت کے سامنے بے نیاز اور باطل طاقت کے مقابلہ میں سر بلندر ہے، اور اگر وہ صاحب امارت وحکومت ہو تو اپنے رعب ودبدبہ کے لیے ظاہری نمائشی چیزوں کے بجائے ان کی طاقت کو کافی ہے۔ بیت المقدس کی نفع کے موقع حضرت عمر رومیوں سے بیت المقدس کی تھی لینے کو شام جا رہے تھے۔ جب شہر کے قریب پہنچے سپہ سالار اسلام حضرت ابوعبی: کچھ مسلمانوں کو لے کر استقبال کو نکلے۔ جب قافلہ ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں کچھ پانی تھا تو حضرت عمر اتر آ ئے۔ پاؤں سے موزے نکال کر اپنے کندھے پر ڈال لیے اور ناقہ کی مہار پکڑ کر پانی میں تھے اور اسی شان سے اسلام کا قافلہ رومیوں کے مقدس شہر میں داخل ہونے کے لیے بڑھا۔ حسرت ابوعبیدہ نے عرض کی یا امیر المومنین آپ یہ کیا کر رہے ہیں کہ موزے اتار کر آپ نےکندھے پر ڈال لیے ہیں۔ گھوڑکی نکیل آپ کے ہاتھ میں اور آپ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اس کو پانی میں لے چل رہے ہیں۔ یہ وہ موقع ہے کہ سارا شہر آپ کے دیکھنے کو امنڈ آیاہے۔ حضرت نے کہا ”ابوعبید اگر تمہارے سوا کوئی اور یہ بات کہتا تو میں اس کو سزادے کر امت کے لیے عبرت بنانا ۔ ہم سب سے ذلیل قوم تھے تو الله تعالی نے اسلام سے ہماری عزت بڑھائی تو جو عزت خدانے ہم کو دی ہے اس کو چھوڑ کر کسی اور چیز کے ذریعہ ہم عزت چاہیں گے تو ان میں ذلیل کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: