عبدالمطلب کا جنازہ اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی حالت

جب حضرت آمنہ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو داغ مفارقت دیا تو عبدالمطلب (رحمت العالمین صلی الله علیہ وسلم کے دادا نے حضورصلی الله علیہ وسلم کو اپنی آغوش محبت میں لے لیا اور بڑی شفقت و پیار سے تادم آخر سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ رکھا.

اور اپنی عملی اولاد سے بڑھ کر آپ صلی الله علیہ وسلم کوعزیز جانتا عبد المطلب بڑے جاہ و جلال کے مالک تھے۔ ان کی اولاد میں سے کسی کو یہ جرات نہ ہوتی کہ ان کے بستر پر جا بیٹھے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کی کپکپاہٹ کے دادا کے بستر پر چلے جاتے۔ نبی صلی الله علیہ وسلم کے چچا آپ کو بتانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے میرے بیٹے کو چھوڑ دو الد کی تم ! اس کی شان ہی کچھ اور ہے میں امید رکھتا ہوں کہ یہ بلند مرتبے پر پہنچے گا جس پر اس سے پہلے کوئی عرب نہیں پہنچا بعض روایات کے مطابق عبد المطلب فرمایا کرتے تھے کہ اس کا مزاج شاہانہ ہے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دادا سے بے حد محبت تھی ۔ والدین کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد دادا کا وجو درحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسکین قلب و جان تھا مگر یہ خیر خواہ بھی زیادہ دیر تک وفا نہ کر سکا ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کی آٹھ منزلیں ہی طے کی تھیں کہ دادا عدم کو روانہ ہوگئے طبقات ابن سعد میں حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سردار عبدالمطلب کی وفات کے بعد دیکھا کہ جب ان کا جنازہ اٹھا تو نبی صلی الله علیہ وسلم پیچھے پیچھے روتے جاتے تھے (طبقات ابن سعد)
(رسول النصلی الله علیہ وسلم کے آنسو، مصنف حافظ عبد الشکور ، صفحہ 13) .

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: