ہجرت

جب کفار کہ بہت تکلیف دینے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائی، اور اصحاب نے خفیہ روانہ ہونا شروع کیا.

ایک روز کافروں کے سرداروں نے خانہ کعبہ کے قریب ایک مکان میں مشورہ کیا اور سب کی یہ راۓ قرار پائی کہ قبیلہ قریش میں سے ایک ایک آدمی منتخب ہو اور سب جمع ہو کر رات کوایک مکان پر جاکرم صلی الله علیہ والہ کو قتل کردیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی سب سے مقابلہ نہیں کر سکتے، اس لئے خون بہا پر راضی ہو جائیں گے، اللہ تعالی نے آپ کو اس مشورہ سے آگاہ کر دیا اور حکم دیا کہ مدینہ ہجرت کر جائیں آپ سب کو گھر میں تھے کہ کفار نے دروازہ بارگیریا، آپ امانتیں حضرت علی کے سپرد کر کے گھر سے نکل گئے اور خدا کی قدرت سے کسی کو نظر آ ئے، اور حضرت ابوبکر صدیق کو ساتھ لیا اور غار ثور میں جا پہنچے ، کافروں نے جب آپ کو گھر
پہونچے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے غار میں داخل ہونے کے بعد مکڑی نے غار کے منھ پر جالا بنادیا اور ایک کبوتر کے جوڑے نے آکے غار میں انڈےدے شروع کردیے، جب کفار نے دیکھا تو کہنے لگے کہ اگر کوئی آدمی اس میں جاتا تو مکڑی کا جالا ٹوٹ جاتا اور کبوتر اس غار میں نہ ٹہرتا ، اسی غار کے متعلق قرآن پاک میں اس طرح آیا ہے۔
الأتنصروه فقد نصره الله إذ اخرجه الذين كو ثانی تيين إثرهما في القار إذ يقول لصاحبه لا تحزن إن الله معنا.
(سورہ التوبہت پا آیتم)ترجمة: اگرتم لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرو گے تو الله تعالی آپ کی مدد اس وقت کرے گا جب کہ آپ کو کافروں نے جلا وطن کر دیا جب کہ دو آدمیوں میں ایک آپ تھے، جس وقت دونوں غار میں تھے جب کہ آپ ہمدردی سے فرمارہے تھے غم نہ کرو .بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن اس غار میں رہے، پھر آپ مدینہ شریف تشریف لے گئے ، وہاں کے لوگوں نے بڑا استقبال کیا، چھوٹی چھوٹی لڑکیاں شوق میں نظم پڑھی تھیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: